صاحب کہنے لگے یار اچھا نہیں لگتا کہ سب بیگمات کے ساتھ آئے ہیں جبکہ ہم اکیلے۔ مار پڑے گی اُسے۔ آپ کو آ نا ہی نہیں چاہیے تھا.
مصنف کا تعارف
شہزاد احمد حمید
قسط: 327
یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے۔
اکبر نورجہاں کا لیزر شو
اکبر نورجہاں کے لیزر شو کا اہتمام خاص طور پر سیکرٹریٹ میں محکموں کے سیکرٹریوں کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ مہمان خصوصی موجود تھے۔ شام کو جب ہم پہنچے تو تمام سیکرٹری اپنی بیگمات کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ صاحب نے کہا، "یار اچھا نہیں لگتا کہ سب بیگمات کے ساتھ آئے ہیں جبکہ ہم اکیلے ہیں۔ آپ فون کر کے بیگم صاحبہ کو بلا لیں۔" وہ بھی آ گئیں۔ بشریٰ گردیزی بھی وہاں موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: راول ڈیم کے سپل ویز کل صبح 6 بجے کھولنے کا فیصلہ
میڈم سے ملاقات
میں نے پوچھا، "میڈم آپ کیسے ہیں؟" انہوں نے جواب دیا؛ "مجھے سیکرٹری ہوم نے بلایا تھا۔ اب نظریں نہیں ملا رہا۔ ویسے روز مجھے کافی کے لئے فون کرتا تھا۔" میں نے کہا؛ "میڈم! وہ تو اپنی بیگم کے سامنے آپ سے بات نہیں کر سکتا، مار پڑے گی اُسے۔ آپ کو آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔" خیر، ان کے آنے کا مجھے فائدہ ہوا کہ مجھے ان کی کمپنی مل گئی تھی۔ میری قسمت!
یہ بھی پڑھیں: دو پراسرار جزیرے، جنگ اور معیشت کی تباہی: سعودی عرب نے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مصر میں سرمایہ کاری کیوں کی؟
ڈی جی کے دفتر کا دورہ
میڈم ایک بار صاحب سے ملنے کمپلیکس کے دفتر آئیں۔ اسمبلی کا اجلاس شروع تھا۔ جب ہم جانے لگے تو میڈم نے کہا؛ "سر! مجھے ڈی جی لوکل گورنمنٹ سے کام ہے۔" صاحب نے مجھے کہا؛ "شہزاد صاحب! میڈم کو ڈی جی سے ملوا کر اسمبلی آ جائیں۔" ہم ڈی جی کے دفتر پہنچے، وہاں قہوہ پیا اور دو منٹ بات کی۔ واپسی کے لئے لفٹ میں سوار ہوئے تو دوبارہ ان نگاہوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: گھر میں بتائے بغیر نِکاح کرنے پر لڑکی قتل
ریٹائرنگ روم کی گفتگو
میں نے نائب قاصد سے کہا؛ "بیٹا! میڈم کی گاڑی لگواؤ۔" وہ بولیں؛ "مجھے ابھی کچھ دیر رکنا ہے۔" ہم ریٹائرنگ روم چلے گئے۔ وہاں انہوں نے کچھ دیر مبہم گفتگو کی۔ چند منٹوں کی یہ تاکا جھانکی ختم ہونے پر وہ ناراضگی میں اٹھیں اور جاتے ہوئے ایک فقرہ کہہ کر گاڑی میں سوار ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا کہنا ہے قوم خود کو تیار کر لے، اب آزادی یا موت کا وقت آگیا ہے، علیمہ خان
اسمبلی میں واپسی
اسمبلی پہنچ کر صاحب کو بتایا تو وہ بولے؛ "میں آپ کی سادگی کا ماتم ہی کر سکتا ہوں۔" میں نے کہا؛ "سر! میں ڈر گیا تھا کہ کہیں انہوں نے کہہ دیا 'شہزاد صاحب! سفید بالوں کا ہی خیال کر لیتے' یا وہ آپ کو شکایت لگا دیتیں، تو میرے پلے کیا رہ جاتا۔ میں تو عمر بھر آپ سے آنکھ نہ ملا سکتا۔" مشہود کو امریکہ میں بات کر کے یہ قصہ سنایا تو زور سے ہنسا اور کہا؛ "آپ کی بدقسمتی ہی کہہ سکتا ہوں۔"
اختتام
ان کے میاں نے دوسری شادی کر لی۔ وزیر کی والدہ نے اپنی دوسری بہو کو قبول نہیں کیا، لیکن ہمارے معاشرے میں عورت دوسری بیوی برداشت نہیں کرتی۔ میڈم کے لئے یہ ناقابل برداشت تھا اور اس کے بعد وہ تنہائی میں کہیں کھو گئیں۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔








