انٹرنیٹ کیبل میں فالٹ تاحال مکمل طور پر دور نہیں کیا جاسکا: سیکرٹری آئی ٹی کا اعتراف
انٹرنیٹ کیبل میں فالٹ کا اعتراف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اعتراف کیا ہےکہ انٹرنیٹ کیبل میں فالٹ تاحال مکمل طور پر دور نہیں کیا جاسکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کی جانب سے 100 دن کی سزا معافی، پنجاب میں 310 قیدی رہا ہو کر اہل خانہ کے ساتھ عید منائیں گے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی کیبل میں فالٹ تاحال مکمل طور پر دور نہیں کیا جاسکا۔ کنسورشیم کی جانب سے کام جاری ہے، پاکستان کی انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل روٹس پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن میں “پھسلن سے بچاؤ فارمولا” کامیاب، ارکان نے دوسروں کا ووٹ باکس میں ڈالا ، مقامی صحافی کا دعویٰ
موبائل سگنلز کی ناقص صورتحال
بعد ازاں کمیٹی نے ملک بھر میں موبائل سگنلز کی ناقص صورتحال پر اگلے اجلاس میں پی ٹی اے حکام کو طلب کرلیا۔ اجلاس میں اسلام آباد آئی ٹی پارک کے منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جب کہ دوران اجلاس پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ منصوبے پر 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر مجھے موقع ملا تو میں آئی پی ایل کھیلوں گا اور میں یہ بات سب کے سامنے کہہ رہا ہوں:محمد عامر
وفاقی وزیر آئی ٹی کی تبصرہ
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا کہ یہ منصوبہ کورین کمپنی کے تعاون سے مکمل کیا جارہا ہے تاہم پروجیکٹ میں تاخیر کے باعث وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔
اسپیکٹرم کی قلت اور قانونی تنازعات
شزہ فاطمہ نے کہاکہ اسپیکٹرم کی قلت اور قانونی تنازعات کے باعث نیٹ ورک مسائل درپیش ہیں، ملک اس وقت 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر چل رہا ہے جو ناکافی ہے اور حکومت آئندہ دسمبر یا جنوری تک اسپیکٹرم آکشن کرانے کی کوشش کررہی ہے۔








