خیبرپختونخوا میں فی کلو آٹا 75 روپے سے بڑھ کر 145 روپے تک پہنچ گیا
پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا میں دو ماہ کے دوران فی کلو آٹا 75 روپے سے بڑھ کر 145 روپے تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی گھریلو سلنڈر پر 50 فیصد سے زائد ٹیکس وصولی کا انکشاف
سپلائی کی پابندی کی وجہ
روزنامہ جنگ کے مطابق، پنجاب سے خیبرپختونخوا کو آٹے اور گندم کی سپلائی پر پابندی کی وجہ سے دو ماہ میں خیبرپختونخوا میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 1250 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فی کلو آٹا 75 روپے سے بڑھ کر 145 روپے تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکھربیراج پردروازوں کی تبدیلی کے دوران عارضی بند ٹوٹ گیا
روٹی کی قیمت میں اضافہ
آٹا مہنگا ہونے کے نتیجے میں روٹی کی قیمت میں بھی 10 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے نانبائیوں نے 150 گرام روٹی 30 روپے میں فروخت کرنا شروع کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کی موجودگی میں میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کی متاثرہ آنکھ کا معائنہ کیا
حکومت کی کوششیں
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے محکمہ خوراک پنجاب کو ایک خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر جاری پابندی صوبے کے عوام کو شدید متاثر کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں سابقہ دشمنی پر جرگے کے دوران فائرنگ سے 2 سگے بھائی جاں بحق
اجلاس اور خط کا فیصلہ
خط لکھنے کا فیصلہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا، جس کے بعد سیکرٹری خوراک کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کا گندم اور آٹے کے لئے زیادہ تر انحصار پنجاب پر ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ان چیزوں کی ترسیل پر پابندی کے باعث صوبہ بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ مارکیٹ میں آٹا بہت مہنگے داموں بک رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ فلورملز بھی شدید متاثر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر چیز موجود ہے، مہلت کس بات کی مانگ رہے ہیں، سپریم کورٹ پراسیکیوٹر پر برہم
قیمتوں کا موازنہ
خط میں آٹے اور گندم پر ترسیل کی پابندی کی وجہ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے شہروں میں قیمتوں پر پڑنے والے اثر کا موازنہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس مطابق پابندی سے پہلے اور اب کی قیمتوں میں بہت فرق ہے، اور خیبرپختونخوا کی عوام تقریباً دگنی قیمت پر آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔
آئینی حوالہ
خط میں گندم کی ترسیل بحال کرنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 155 کی شق ایک کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے آئینی طور پر پابند ہیں۔








