اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کی فہرست میں شامل افراد کو عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا
ہائی کورٹ کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو سلمان اکرم راجہ کی فہرست میں شامل افراد کو عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جج کے ٹرانسفر کو عدلیہ کی آزادی کے تناظر میں دیکھا جائے، وکیل منیر اے ملک
ملاقاتوں کی درخواستوں کی سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے جیل ملاقاتوں کی درخواستوں پر سماعت کی جس دوران ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر قاسم اور سلمان نے برطانوی شہری بن کر پاکستان آنا ہے تو ایسی صورت میں برطانوی حکومت نے انہیں مظاہروں اور ہجوم سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، عثمان شامی
ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کی استدعا
دورانِ سماعت، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جن رولز کو معطل کیا گیا وہ وفاق کے رولز نہیں ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد یہ رولز اب پنجاب کے جیل رولز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے مختصر ملاقات
عمران خان کے وکیل کا مؤقف
سلمان اکرم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں آج سن لیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات کی درخواست دائر ہے، 24 مارچ کو اسی لارجر بینچ نے آرڈر کیا، عدالتی آرڈر پر کسی ایک دن بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق ہم ہربار نام دیتے ہیں مگر انہیں جانے کی اجازت نہیں ملتی، لسٹ میں جو نام جاتے ہیں ان میں سے باہر کا بندہ ایڈ کیا جاتا ہے۔
عدالتی حکم اور عمل درآمد
اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، سلمان اکرم راجہ کی طرف سے ہمارے پاس کوئی لسٹ نہیں آئی۔ بعد ازاں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کے 24 مارچ کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ سلمان اکرم راجہ جو فہرست دیں گے ان کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔








