راولپنڈی؛ شہری کو برہنہ کرکے تشدد کرنے کا کیس، گرفتار ملزمان میں پولیس اہلکار بھی شامل
راولپنڈی: شہری کے ساتھ غیر انسانی سلوک
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) گوالمنڈی میں ایک شہری کو برہنہ کرکے زنجیروں میں جکڑنے اور اس پر تشدد کرنے کے معاملے کی تفتیش میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔ انسپکٹر لیول کے ایک آفیسر کو تفتیش کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جبکہ اس معاملے میں گرفتار ملزمان میں ایک ملزم پولیس ملازم بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملک و قوم کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
تفتیشی انسپکٹر کی تعیناتی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، تھانہ گنجمڈی میں درج مقدمے کی تفتیش کی ذمہ داری انسپکٹر انویسٹی گیشنز سٹی سرکل عامر خالد کو سونپ دی گئی ہے۔ مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہونے کے بعد تفتیش انسپکٹر کی اختیارات میں آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل ایران جنگ میں اہم موڑ، ایران سے طیارے عمان کی طرف روانہ، مذاکرات شروع ہونے کا امکان
مقدمے کی دفعات
پیش کردہ مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ حبس بے جا میں رکھنے اور برہنہ کرکے ویڈیو بنانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان
گرفتار ملزمان کی شناخت
گرفتار 6 ملزمان کے نام سامنے آ گئے ہیں جن میں یاسر خان، ملک جنید، ظہیر، فیصل مسیح، ثمر عباس، روحیل اور رب نواز عرف ننھا شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، گرفتار ملزم یاسر خان ایک پولیس ملازم ہے اور نیشنل پولیس فاؤنڈیشن میں تعینات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی ہٹ دھرمی امن کیلئے خطرہ، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
عدالت میں پیشی اور ریمانڈ
گرفتار ملزمان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں 7 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی ہیکرز نے ٹرمپ کے مشیروں کی ای میلز لیک کرنے کی دھمکی دیدی
تفتیشی افسر کی درخواست
تفتیشی افسر نے عدالت میں 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست جمع کروائی۔ پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے نوجوان کو برہنہ کر کے زنجیروں سے باندھ کر تشدد کیا۔
ملزمان کی دوبارہ پیشی
ملزمان یاسر خان، جنید، ظہیر، فیصل، ثمر عباس، روحیل اور رب نواز کو پولیس کی نگرانی میں روانہ کیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کو دوبارہ تفتیش مکمل کر کے 31 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔








