پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں: گورنر پنجاب
گورنر پنجاب کی رائے
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں انکار کرنے سے کوئی ہیرو نہیں بن جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ کم ترین سطح پر ہے، نومبر میں نیلا آسمان نظر آنا کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے: مریم اورنگزیب
ماضی کی حکومت اور سیاسی نظام
نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کے ہم منصب سے ملاقات کے دوران سردار سلیم حیدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے ہمارا پرانا تعلق ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا الیکشن کے بعد اتحاد بنا، اور 18 ماہ کی حکومت بھی دونوں جماعتوں نے مل کر بنائی تھی۔ پیپلزپارٹی کے لئے یہ ایک بھیانک خواب رہا۔ اس بار معاہدے پر دستخط ہوئے اور پھر حکومت بنائی گئی، تاہم کچھ چیزیں عمل میں نہیں لائی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: 1965ء کی جنگ کے دوران قوم بالخصوص نوجوانوں کا جذبہ دیدنی تھا، 17 روزہ جنگ کے دوران کوئی چوری، ڈاکہ، قتل کی واردات نہیں ہوئی
سیاسی ذمہ داریاں اور توقعات
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ ہم اس سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور وزیراعظم معاملات کو سنجیدگی سے لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے مطابق، "ایسے معاملات میں انکار کرنا مفت میں ہیرو بننے جیسی بات ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: 15 فروری کے بعد پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ اور دیگر آپشن کا اعلان کریں گے: حافظ نعیم الرحمان
مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا اتحاد
انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے مستقبل پر کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اگر سسٹم میں خرابی آئے تو کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) سے اتحاد محض محبت یا شوق کا نہیں بلکہ ملک کی مجبوریوں کی وجہ سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں، سزائیں اور بھاری جرمانوں کی تجاویز سامنے آگئیں
صوبائی حقوق اور وفاقی معاملات
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی سے ملاقات کے لئے جا رہے ہیں، اور مسائل کے حل کے لئے صوبائی اور پارلیمانی جرگہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاق کے ساتھ اپنے حقوق کے لئے دلائل سے بات کرنی ہے، اور ہمیں بدمعاشی سے اپنے حقوق نہیں لینے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسلسل ایمانداری سے ہی ملک میں چیزوں کو درست سمت لے جایا جا سکتا ہے، اس کیلیے جبر مسلسل کی ضرورت، بہادر دل اور تازہ دماغ چاہیے
افغانستان کے حوالے سے حساس مسائل
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم نے افغانستان کا دورہ کیا اور وہاں درخواست کی کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔ پاکستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی بدامنی میں نصف سے زیادہ افغان شہری ملوث ہیں۔
اجلاس اور کمیونیکیشن
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سہیل آفریدی کو جانے کا کہا گیا۔ پنجاب سے گندم اور دیگر اشیاء کی پابندی سے مشکلات بڑھ رہی ہیں، اور صدر زرداری اور وزیراعظم کا باہمی رابطہ چیزوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔








