پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں: گورنر پنجاب
گورنر پنجاب کی رائے
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں انکار کرنے سے کوئی ہیرو نہیں بن جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ میں باراتیوں کی بس گہری کھائی میں گرگئی، 2 افراد جاں بحق، 25 زخمی
ماضی کی حکومت اور سیاسی نظام
نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کے ہم منصب سے ملاقات کے دوران سردار سلیم حیدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے ہمارا پرانا تعلق ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا الیکشن کے بعد اتحاد بنا، اور 18 ماہ کی حکومت بھی دونوں جماعتوں نے مل کر بنائی تھی۔ پیپلزپارٹی کے لئے یہ ایک بھیانک خواب رہا۔ اس بار معاہدے پر دستخط ہوئے اور پھر حکومت بنائی گئی، تاہم کچھ چیزیں عمل میں نہیں لائی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی ہی تین سالہ بچی سے زیادتی کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
سیاسی ذمہ داریاں اور توقعات
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ ہم اس سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور وزیراعظم معاملات کو سنجیدگی سے لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے مطابق، "ایسے معاملات میں انکار کرنا مفت میں ہیرو بننے جیسی بات ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا اتحاد
انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے مستقبل پر کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اگر سسٹم میں خرابی آئے تو کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) سے اتحاد محض محبت یا شوق کا نہیں بلکہ ملک کی مجبوریوں کی وجہ سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان جنگ جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ
صوبائی حقوق اور وفاقی معاملات
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی سے ملاقات کے لئے جا رہے ہیں، اور مسائل کے حل کے لئے صوبائی اور پارلیمانی جرگہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاق کے ساتھ اپنے حقوق کے لئے دلائل سے بات کرنی ہے، اور ہمیں بدمعاشی سے اپنے حقوق نہیں لینے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم والے صرف شوشے چھوڑتے ہیں، این ایف سی ایوارڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا : ناصر حسین شاہ
افغانستان کے حوالے سے حساس مسائل
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم نے افغانستان کا دورہ کیا اور وہاں درخواست کی کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔ پاکستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی بدامنی میں نصف سے زیادہ افغان شہری ملوث ہیں۔
اجلاس اور کمیونیکیشن
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سہیل آفریدی کو جانے کا کہا گیا۔ پنجاب سے گندم اور دیگر اشیاء کی پابندی سے مشکلات بڑھ رہی ہیں، اور صدر زرداری اور وزیراعظم کا باہمی رابطہ چیزوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔








