سندھ میں مستقبل قریب میں 20 ہزار نئے پولیو کیسز سے متعلق وارننگ جاری
پولیو مہم کے خطرات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے سندھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسدادِ پولیو مہم میں تسلسل برقرار نہ رہا تو آئندہ تین سالوں میں کیسز کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ایم این اے مولانا محمد یوسف انتقال کرگئے
تقریب کا انعقاد
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جناح ہسپتال کراچی کے نجم الدین آڈیٹوریم میں ای او سی سندھ کی جانب سے عالمی یوم انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔
تقریب میں سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا، مودی اب کسی حملے سے پہلے 100بار سوچے گا، وزیر اعظم شہباز شریف
پولیو ورکرز کی خدمات
ای او سی سندھ کے آرڈینیٹر ارشاد سوڈھر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولیو ورکرز کی خدمات کو فرنٹ لائن ہیرو قرار دیا اور کہا کہ ہم ان شاء اللہ جلد پولیو فری ڈے منائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 24 اکتوبر کو ویکسین کا دن منایا جاتا ہے اور یہ دن پولیو ورکرز کے نام ہونا چاہیے کیونکہ سب سے مشکل کام دھوپ، بارش، گرمی اور سردی میں پولیو ورکرز کرتے ہیں۔ انہوں نے سیلاب میں کشتیوں پر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ، عوام کی بے چینی میں اضافہ ہونے لگا، گوہر اعجاز
صوبائی وزیر صحت کا عزم
صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھروں اور بچوں کو چھوڑ کر عوام کی خدمت کر رہی ہیں۔ اگر اسی طرح ہمارا ساتھ رہا تو جلد پولیو کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان شاء اللہ 2026 میں سندھ کو پولیو فری بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین نے پہلا حکم جاری کردیا
والدین سے اپیل
ڈاکٹر عذرا نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو پولیو کے قطرے بخوبی پلائیں کیونکہ جو بچہ بظاہر صحت مند لگتا ہے، وہ بھی وائرَس پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے ہی گھر سے چوری کے الزام میں خاتون اور اس کا دوست گرفتار
پولیو سے متاثرہ ڈاکٹر کی کہانی
تقریب میں پولیو سے متاثرہ ڈاکٹر اختر عباس نے بھی اپنی زندگی کی کہانی سنائی، انہوں نے بتایا کہ ساڑے تین سال کی عمر میں مجھے پولیو ہوا تھا اور اس کے باوجود اللہ کے فضل سے میں نے الٹراساؤنڈ میں ٹریننگ لے کر آج بحیثیتِ پیشہ کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر اختر نے کہا کہ یہ دو قطرے بچوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل قطر میں دوبارہ حملہ نہیں کرے گا: ٹرمپ
جناح اسپتال اور دیگر امور
وزیرِ صحت نے بتایا کہ جناح اسپتال وفاق سے لیز پر لیا گیا ہے اور انہوں نے اسپتال کو آوٹ سورس کرنے کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے ڈینگی کے کیسز کے حوالے سے کہا کہ جو مریض او پی ڈی میں آ رہے ہیں، وہی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ صوبے کی ڈسپنسریز میں پی پی ایچ آئی فعال طور پر کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے، ایرانی صدر
عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کا کردار
تقریب میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کے نمائندوں نے بھی ویکسین کے ثابت شدہ اثرات اور پولیو مہم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور والدین سے بار بار اپیل کی کہ وہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیں تاکہ پاکستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک کیا جا سکے۔
شرکاء کی شکرگزاری
تقریب کے آخر میں شرکاء نے پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مزید عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔








