طالبان پاکستان کے خلاف بڑی اطلاعاتی جنگ کی تیاری میں مصروف، دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری کا انکشاف
طالبان کی متوقع اطلاعاتی جنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف ایک بڑی اطلاعاتی (Information Warfare) جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں افغانستان کی مختلف شخصیات شامل ہوں گی۔ اس میں نہ صرف طالبان سے وابستہ حلقے بلکہ سابق افغان حکومتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت اور مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے:مولانا عبدالخبیر آزاد
نئی ہدایات اور فنڈنگ
ایکس پر ایک پوسٹ میں فاران جعفری نے انکشاف کیا کہ اس مہم کے لیے نئی ہدایات تیار کی جا رہی ہیں اور فنڈنگ بھی یقینی بنائی جا چکی ہے، جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف عید سعودی عرب میں منائیں گے،فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہمراہ ہوں گے۔
پاکستان کا کردار
انہوں نے کہا کہ "پاکستان وہ عنصر ہے جو تمام افغانوں کو متحد کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بھارت، پاکستانیوں کو متحد کرنے والا ایک مشترکہ نکتہ ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے والے انجیکشن کا مردوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے یا خواتین پر؟ حیران کن تحقیق سامنے آگئی۔
موجودہ حالات اور چیلنجز
تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ پاکستان دراصل کافی عرصہ پہلے ہی اس جال میں پھنس چکا ہے، اور حالیہ کوششیں جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئیں، وہ اسی جال سے نکلنے کی کوشش تھیں۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان فی الحال اسی دائرے میں پھنسا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریوائزڈ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد ہے: وزیر خزانہ پنجاب
ان کی پیشگوئی
فاران جعفری نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان یہ اطلاعاتی جنگ بہت نمایاں انداز میں طالبان سے بری طرح ہارے گا، جب تک کہ پاکستان اپنا بیانیہ مکمل طور پر تبدیل نہ کر لے۔
پرانی بیانات اور مستقبل کی امیدیں
ان کے بقول "پاکستان اس جنگ میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ 70 سالوں کے اپنے پرانے بیانیوں کو ترک نہیں کرتا۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ پاکستان ایسا کرے گا۔"








