دور کہیں سے سیٹی کی آواز بڑھتی چلی آتی ہے، نئی نویلی دلہن کو دھڑکا لگا رہتا ہو گا، جانے والے کے کاندھے سے لگ کر آنسوؤں کو خوب بہنے دیتی ہو گی۔
مصنف
محمد سعید جاوید
یہ بھی پڑھیں: امام مسجد کے گھر سے 10 تولہ سونا، 6 لاکھ روپے کی نقدی چوری
قسط: 288
یہ بھی پڑھیں: ایف8 اسلام آباد صرف 45 دن میں بننے والا روڈ 45 دن بھی نہ چل سکا، پی ٹی آئی
تنخواہ دار ملازمین کی واپسی
دوسری طرف پردیس سے چھٹیاں گزارنے کے لیے گاؤں آئے ہوئے تنخواہ دار ملازمین کی بر وقت واپسی کے لیے بھی یہی گاڑی موزوں ہوتی تھی۔ نئی نویلی دلہن کو سویرے والی گاڑی کا بڑا دھڑکا لگا رہتا ہوگا اور وہ پہلی بار بچھڑنے کا کرب محسوس کرتے ہوئے بار بار اپنے محبوب کے ساتھ دل لگی کرتے ہوئے اسے یہ احساس دلاتی ہوگی کہ:
یہ بھی پڑھیں: مسیحی اسپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے اپنا کاسٹنگ ووٹ پاکستان کے حق میں ڈال کر اسمبلی سے پنجاب کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کروائی
دل کی کیفیت
تم تو سویرے والی گاڑی سے چلے جاؤگے اور یہی دل لگی اسے رات بھر سونے بھی نہیں دیتی ہوگی۔ علی الصبح وہ ضد کر کے اسٹیشن پر اسے چھوڑنے جاتی ہوگی، پہلی بار بچھڑنے کا دکھ اشک بن کر آنکھوں میں اتر آتا ہوگا اور وہ جانے والے کے کاندھے سے لگ کر ان آنسوؤں کو خوب بہنے دیتی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: شہری کے اغوا میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
سیٹی کی آواز
تب ہی دور کہیں سے سیٹی کی آواز سکوت صبح کو توڑتی ہوئی قریب بڑھتی چلی آتی ہے۔ جانے والا بڑے پیار سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے کہتا ہوگا:
ہٹو کاندھے سے، آنسو پونچھ ڈالو
وہ دیکھو ریل گاڑی آ رہی ہے
میں تم کو چھوڑ کر ہرگز نہ جاتا
غریبی مجھ کو لے کر جا رہی ہے
یہ بھی پڑھیں: کبھی اکیلا ہوتا تو ماں کی یادیں اور پرانے انڈین گانے میرے ہمسفر ہوتے، ریل میں بیٹھا مسافر کبھی اکیلے پن کا شکار نہیں ہوتا چھک چھک ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
الوداع کا منظر
اور جب گاڑی اداس سی سیٹی اور چَھک چَھک کی آواز کے ساتھ اسٹیشن سے نکلتی تو وہ کچھ دور تک ہاتھ ہلاتے ہوئے گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتی اور پھر اس کا ہلتا ہوا ہاتھ بے جان ہو کر نیچے گر جاتا۔ وہ سست قدموں سے سر جھکائے اپنے ساتھ آنے والوں کے ہمراہ واپس چلی جاتی تھی جہاں اسے اب تنہا ہی رہ کر انتظار کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ ہفتے بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی
شعراء کی گواہی
جدائی اور ہجر کے رنج و غم کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے مختلف شعراء اور لکھاریوں نے ریل کی اسی الوداعی سیٹی کو اپنے جذبات بیان کرنے کا ایک ذریعہ جانا۔
منیر نیازی کی شاعری
منیر نیازی نے سویرے والی اسی گاڑی کی روانگی کا نقشہ کچھ یوں کھینچا تھا:
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
پروین شاکر کی احساسات
پروین شاکر نے بھی اس دکھ کو بری طرح محسوس کیا تھا اور اسے اپنے اس شعر میں سمیٹنے کی کوشش کی تھی:
ریل کی سیٹی میں ہجر کی اک تمہید تھی
اس کو رخصت کر کے گھر لوٹے تو اندازہ ہوا
ایک اور شاعر کی رائے
ایک اور شاعر نے ریل کی اس اداس سی سیٹی کے اس کرب کو کسی اور ہی انداز سے محسوس کیا:
رخصت ہوئے تو ریل کی سیٹی میں دیر تک
ایسا لگا کہ جیسے وفا چیختی رہی
سیٹیاں کلام کرتی ہیں
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








