اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں؟
ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں تبدیلی
حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی ٹماٹر کی قیمت میں کمی آئی، ویسے ہی پیاز کی قیمت اچانک بڑھ گئی۔ یہ صورتحال صرف ایک دن یا ایک ہفتے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی (طلب و رسد) کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آغا خان آرکیٹیکچر ایوارڈ 2025 کا اعلان ’’ویژن پاکستان‘‘ فاتح قرار
قیمتوں کا عدم توازن
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ جب کسی چیز کی فصل زیادہ ہوتی ہے تو قیمتیں زمین پر آجاتی ہیں، اور جب فصل میں کمی ہو جائے تو آسمان کو چھو لیتی ہیں۔ یہ عدم توازن صرف کسان، دکاندار یا صارف کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری معیشت کے عدم استحکام کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: نمیبین کپتان کا بھارت کیخلاف میچ سے قبل فلڈ لائٹس میں پریکٹس کا موقع نہ دینے کا شکوہ
مہنگائی کا کنٹرول
میں بارہا یہ بات کہہ چکا ہوں کہ مہنگائی اس انداز سے کبھی قابو نہیں کی جا سکتی۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم واقعی معاشی استحکام چاہتے ہیں تو ہمیں منصوبہ بند معیشت (Planned Economy) کی طرف جانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین کی حمایت جاری رکھے گا۔
نقصان کی وجوہات
کیونکہ موجودہ صورتحال میں نہ کسان کو فائدہ ہو رہا ہے، نہ بیوپاری کو، اور نہ ہی عام عوام کو۔ سب کسی نہ کسی طرح نقصان اٹھا رہے ہیں اور اس نقصان کی سب سے بڑی وجہ ہے غیر یقینی صورتحال۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کی آمد پر مستحق خواتین کے لیے بڑی خوشخبری، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سہ ماہی قسط میں اضافہ کر دیا گیا
مستحکم منڈی کی اہمیت
ایک مستحکم منڈی (Stable Market) ہی سب کے مفاد میں ہے۔ جب قیمتوں میں تسلسل ہو، تو کسان کو بھی اعتماد ہوتا ہے کہ اس کی محنت کا پھل ضائع نہیں جائے گا، بیوپاری کو بھی یقین ہوتا ہے کہ اس کا سرمایہ محفوظ ہے، اور صارف کو بھی تسلی رہتی ہے کہ کل کی قیمت آج جیسی ہی ہوگی۔ میری ذاتی رائے اور تجربے کے مطابق، پچھلے چند برسوں میں جتنی غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سانحۂ خضدار، معصوم بچوں کے قتل پر امریکی ناظم الامور کا بیان بھی آ گیا
موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر
اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change) بھی ہیں۔ کبھی اچانک فصلیں خراب ہو جاتی ہیں، کبھی موسم کا غیر معمولی ساتھ ملنے سے پیداوار بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرد بہت مظلوم ہیں، گھروں میں بہت کچھ سہتے ہیں لیکن بولتے نہیں، ڈومیسٹک وائلنس بل پر طلال چوہدری کا تبصرہ، قومی اسمبلی میں قہقہے لگ گئے
پالیسی کی ضرورت
کبھی مارکیٹ میں طلب کم ہو جاتی ہے، تو کبھی اچانک برآمدات بند ہونے سے پورا نظام ہل جاتا ہے۔ یہ سب عوامل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری منڈی کو پالیسی کی بنیاد پر چلانے کی ضرورت ہے، نہ کہ وقتی فیصلوں پر۔
ہمیں ایک قومی زرعی پالیسی (National Agricultural Policy) کی ضرورت ہے جو کم از کم دس سال کے لیے بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سرکاری ملازمین نے صدر، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے ’’دردمندانہ اپیل‘‘ کر دی۔۔کن کن مسائل کی نشاندہی کی گئی؟ جانیے
پائیدار حل کی اہمیت
ایسی پالیسی جو حکومتوں کے بدلنے سے متاثر نہ ہو، بلکہ ایک قومی معاہدے کی طرح ہو، جس پر آنے والی ہر حکومت عمل کرے۔ یہ وقت وقتی اعلانات یا وقتی ریلیف کا نہیں، بلکہ مستقل نظام قائم کرنے کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سوزین خان کی ہیلووین پارٹی میں غیر اخلاقی حرکات، پولیس کا چھاپہ، 51 افراد گرفتار
حکومت کی ذمے داری
حکومت کی نیت قابلِ تعریف ہے، اور اس کے منصوبوں میں بہتری کی کوشش بھی نظر آتی ہے، مگر بدقسمتی سے اکثر منصوبوں میں وہ عملی خلا (implementation gap) موجود ہے جس کی وجہ سے نتائج ویسے نہیں آ پاتے جیسے عوام اور حکومت دونوں کی امید ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں نرسوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، ضرورت 10 ہزار اور دستیاب صرف 1700 ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
مفادات کا توازن
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پیداواری افراد (Producer)، درمیانی طبقہ (Middleman)، تاجروں (Traders) اور صارفین (Consumers) سب کو ایک ہی صفحے پر لائے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم انسپکشن ٹیم کے اچانک دورے جاری، ٹیم ٹی ایچ کیو ہسپتال حسن ابدال پہنچ گئی
پاکستان کے معاشی مسائل کا حل
جب سب کے مفادات کو متوازن رکھا جائے گا، تو نہ صرف کسان خوشحال ہوگا بلکہ عام آدمی کو بھی ریلیف ملے گا، اور حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد بڑھے گا۔ آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ایک منصوبہ بند معیشت، مستحکم منڈی، اور تمام فریقین کا اعتماد ہی پاکستان کے معاشی مسائل کا واحد حل ہے۔ تمام فریقین کو بٹھایا جائے، سب کو سنا جائے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے، صرف بابوز والے ماڈل سے اب اجتناب کیا جائے۔
نوٹ
یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








