خضدار میں مسلح افراد کا ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 18 مزدور اغوا، متعدد گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا دی گئی

خضدار میں مزدوروں کا اغوا

خضدار (ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا جبکہ متعدد گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا کر تباہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری سکولوں کی حالت زار پر ازخودنوٹس کیس؛ سیکرٹری خزانہ کے پی سمیت دیگر ذاتی حیثیت میں طلب

سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

واقعہ صوبے میں ایک ہفتے کے اندر مزدوروں کے اغوا کا دوسرا بڑا سانحہ ہے، جس سے علاقے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 1965ء کی جنگ کے دوران قوم بالخصوص نوجوانوں کا جذبہ دیدنی تھا، 17 روزہ جنگ کے دوران کوئی چوری، ڈاکہ، قتل کی واردات نہیں ہوئی

حملہ کا مقام

حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کی رات خضدار سے تقریباً 80 کلومیٹر دور نال کے علاقے کلیڑی میں پیش آیا۔ درجنوں مسلح افراد نے سب سے پہلے شاہراہ کو بلاک کر کے ٹریفک روک دی اور پھر ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ اور کرش پلانٹ پر دھاوا بول دیا۔ یہ کمپنی خضدار کو ضلع واشک کے علاقے بسیمہ سے جوڑنے والی اہم سڑک کی تعمیر پر کام کر رہی تھی جو صوبے کی ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بہت مضبوط لیڈر شپ ہے، امریکی صدر ٹرمپ

حملہ آوروں کا طریقہ کار

علاقے کے لیویز انچارج علی اکبر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے کرش پلانٹ پر حملہ کر کے وہاں موجود گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا دی جس سے کم از کم 8 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، جن میں بھاری مشینری اور ٹرانسپورٹ وہیکلز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری سالک حسین نے ای او بی آئی پیشنرز کو بڑی خوشخبری سنادی

اغوا کی تفصیلات

انہوں نے مزید بتایا کہ مسلح افراد کیمپ میں موجود مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گئے، اغوا ہونے والے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے، جو دور دراز علاقوں سے روزگار کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کوپ30 کانفرنس میں صوبہ پنجاب کی طرف سے ’’پاکستان پویلین‘‘قائم کردیا گیا

کمپنی کا ردعمل

تعمیراتی کمپنی ڈی بلوج کے منیجر ذوالفقار احمد نے تصدیق کی کہ ابتدائی طور پر مسلح افراد نے 20 مزدوروں کو اغوا کیا تھا، تاہم بعد میں دو مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا۔ باقی 18 مزدور اب بھی لاپتا ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ذوالفقار احمد کا کہنا تھا کہ یہ حملہ کمپنی کے کام کو شدید متاثر کرے گا اور ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کے شہر میں ‘موت کا جال’ کہلانے والے انسانی سمگلنگ کے کاروبار کی گہرائی اور وسعت کتنی ہے؟

سیکیورٹی فورسز کا جواب

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی۔ لیویز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار موقع پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور تحقیقات شروع کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان: سسرالیوں نے حاملہ بہو کا گلا کاٹ دیا

تلاش کا آغاز

حکام نے بتایا کہ اغوا شدہ مزدوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس میں مقامی قبائلی عمائدین کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ تاہم، اب تک مزدوروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا اور ابھی تک کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ، اس علاقے میں بلوچ مسلح گروپ سرگرم ہیں، جو ماضی میں بھی تعمیراتی کمپنیوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہم ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں: وزیر اعظم

معاشی ترقی پر اثرات

یہ گروپ اکثر حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں، جنہیں وہ بیرونی مداخلت کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ رِدھی ڈوگرا کے فواد خان کے ساتھ اپنی فلم کے حوالے سے اہم انکشافات

سیکیورٹی کی صورتحال

یہ واقعہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر یہ مزدوروں کے اغوا کا دوسرا سنگین سانحہ ہے۔ چند روز قبل مستونگ کے علاقے دشت میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کام پر مصروف 9 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا، جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا جس کے بعد چند روز میں اغوا کیے گئے مزدوروں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیم سے باہر ہونے کے بعد فخر زمان نے اپنے کرکٹ کیریئر سے متعلق بڑا فیصلہ لے لیا

حکام کی کارروائیاں

ان واقعات سے صوبے میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں اور کمپنیوں میں تشویش پھیل گئی ہے، اور حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے۔

حکومت کی جوابدہی

حکومت بلوچستان نے ان واقعات کی مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ مجرموں کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے حملے صوبے کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں اور انہیں روکنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...