حکومت نے نجی سیکٹر کے ذریعے مجموعی طور پر 6.25 ملین میٹرک ٹن گندم خریداری کا منصوبہ تیار کرلیا
گندم خریداری کی منصوبہ بندی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے گندم خریداری کا منصوبہ تیار کرلیا جب کہ رواں سال کے لیے عبوری گندم پالیسی کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جو آئندہ ہفتوں میں وفاقی کابینہ کو پیش کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سماجی مسائل اور پڑھائی میں عدم دلچسپی، سال 2023 اور 2024 آؤٹ آف سکولز بچوں کے لیے بھاری رہا
خریداری کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع وزارت فوڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر 6.25 ملین میٹرک ٹن گندم کاشتکاروں سے براہِ راست کی بجائے نجی شعبے کے ذریعے خریدیں گی۔ نجی سیکٹر رواں سال گندم خریداری کا عمل انجام دے گا۔ وفاق 1.5 ملین ٹن، پنجاب 2.5 ملین ٹن، سندھ 1 ملین ٹن، خیبرپختونخوا 7.5 لاکھ اور بلوچستان 5 لاکھ ٹن گندم خریدیں گے۔
قیمتوں کا تعین
حکومت نے گندم کی انڈیکیٹو قیمت خرید 3500 روپے فی من مقرر کردی ہے۔ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی قیمت بڑھا دی جائے گی۔ آئی ایم ایف شرائط پر گندم کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی گئی، اور گندم کی صوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔








