سپریم کورٹ نے بیوی پر کسی بھی قسم کے گھریلو تشدد اور خلع سے متعلق درخواست پر اہم فیصلہ سنادیا

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی پر کسی بھی قسم کے گھریلو تشدد اور خلع سے متعلق درخواست پر اہم فیصلہ سنادیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے سترہ صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں پشاور ہائی کورٹ اور فیملی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، حالیہ سیلاب میں جاں بحق 411 میں سے 352 افراد کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی مکمل

عورت کی مرضی کی اہمیت

سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ عورت کی مرضی کے بغیر عدالت خلع نہیں دے سکتی۔ ازدواجی زندگی میں نفسیاتی اذیت جسمانی تشدد جتنی سنگین ہے۔ شوہر کی اجازت کے بغیر دوسری شادی تنسیخِ نکاح کے لیے جائز بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے ہڑتال، دکان بند نہ کرنے پر جھگڑا، بازار کا صدر قتل

عدالت کے لیے رہنمائی

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالتوں کو خواتین سے متعلق محتاط الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جبکہ پارلیمنٹ نے ظلم کی تعریف قانون میں بیان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ عدالتوں کو گنجائش حاصل ہے کہ وہ ظلم کی مختلف صورتوں کو پہچان سکیں اور انصاف کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں ہونیوالی سہ فریقی سیریز سے دستبرداری کا اعلان کر دیا

ظلم کی تعریف میں وسعت

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ ظلم صرف جسمانی نقصان تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایسا طرزِ عمل جو ذہنی یا جذباتی اذیت پہنچائے، وہ بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالتوں نے ظلم کو ایسے رویے کے طور پر بیان کیا ہے جو جسمانی تشدد تک محدود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نرگس پر شوہر کا مبینہ بدترین تشدد، افسوسناک انکشاف

ذہنی اذیت اور دیگر عوامل

جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے میں لکھا کہ ظلم میں ذہنی اذیت دینا، گالم گلوچ کرنا یا جھوٹے الزامات لگانا بھی شامل ہے۔ اگر اثرات تکلیف دہ اور شدید ہوں تو یہ ظلم کہلائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: لاؤڈ سپیکر میں اذان سے پہلے درود پڑھنے پر امام مسجد کے خلاف مقدمہ درج، گوجرہ بار کا ہڑتال کا اعلان

بین الاقوامی قوانین

انٹرنیشنل کنویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس جسمانی اذیت اور ظالمانہ سلوک کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیٹی نے بھی اسے گھریلو ظلم کی شکار شادیوں پر لاگو کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے اعلیٰ سطح کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

درخواست کی منظوری

عدالت نے خاتون کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے فیملی کورٹ اور ایپلٹ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ نکاح کو اس بنیاد پر ختم کیا گیا کہ دوسری شادی ہوئی، لہٰذا بیوی کو اپنا مہر واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

خاتون کی جانب سے دائر درخواست

درخواست گزار خاتون کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جج فیملی کورٹ نے درخواست گزار خاتون کی باتوں اور دلائل کو نظر انداز کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع کا حکم دیا گیا۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...