امریکی ارب پتی نے اکیلے ہی فوج کی تنخواہیں ادا کردیں
ٹموتھی میلن کا فوجیوں کے لئے عطیہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی ارب پتی اور ٹرمپ ڈونر ٹموتھی میلن نے فوج کی تنخواہوں دینے کے لیے 13 کروڑ ڈالر عطیہ کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرین نے شنگھائی تعاون تنظیم کے بارے میں اہم پیشگوئی کر دی
امریکی حکومت کو عطیہ
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ارب پتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حامی ٹموتھی میلن وہ نامعلوم شخص ہیں جنہوں نے 130 ملین ڈالر (13 کروڑ ڈالر) حکومتِ امریکا کو دیے تاکہ سرکاری شٹ ڈاؤن کے دوران فوجی اہلکاروں کو تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا چند ہی گھنٹوں میں اسرائیل پر دوسرا حملہ
پینٹاگون کی تصدیق
پینٹاگون نے جمعے کو تصدیق کی کہ اس نے یہ رقم قبول کر لی ہے تاکہ فوج کے اہلکاروں کی تنخواہیں وقت پر دی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی منظور کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا
صدر ٹرمپ کی معلومات
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو انکشاف کیا تھا کہ ایک "دوست" نے یہ رقم عطیہ کی ہے، لیکن انہوں نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ اگلے روز ٹرمپ نے بتایا کہ وہ شخص "تشہیر نہیں چاہتا"۔
پچھلا عطیہ
واضح رہے کہ ٹموتھی میلن نے گزشتہ برس ٹرمپ کی صدارتی مہم کیلئے سب سے بڑا عطیہ دیا تھا۔ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کیلئے ایلون مسک سے بھی زیادہ فنڈز دیے تھے۔








