ہنگو حملہ: شہید ایس پی اسد زبیر کے پاس حساس مقام پر جانے کیلئے بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی: ذرائع
ہنگو میں ایس پی اسد زبیر کی شہادت
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہونے والے ایس پی اسد زبیر کے پاس حساس مقام پر جانے کیلئے بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: معروف امریکی گلوکار جے زی پر 13 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کا الزام، متاثرہ نے بلیک میلنگ کا دعویٰ کیا
دھماکے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق، ہنگو میں چوکی پر حملے کے بعد اس حساس جگہ پر جانے والے ایس پی اسد زبیر کے پاس بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی، جس کے باعث ان کی گاڑی آئی ای ڈی دھماکے سے متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، قطر، عمان نے ٹرمپ کو اس بات پر قائل کیا کہ ایران کو ایک موقع اور ملنا چاہیے، سعودی عہدیدار کا انکشاف
پہلے کے واقعات
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام پر چند سال قبل ایک ایس ایچ او کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ کچھ عرصہ قبل ضلع ہنگو میں ڈی پی او پر بھی حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے میں جدید زرعی مشینری کے استعمال سے سموگ اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئی ،مریم اورنگزیب
سیکیورٹی کی کمی
ذرائع کے مطابق، ضلع ہنگو کو حساسیت کے باوجود صرف ایک بلٹ پروف گاڑی دی گئی ہے، جو کہ ڈی پی او ہنگو کے زیر استعمال ہے، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو ڈی ایس پی لیول تک بلٹ پروف گاڑیوں کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق چیف سلیکٹر اظہر خان نے کپتانی کے لیے کس کھلاڑی کو بہترین قرار دیا؟ جانیں
ایس پی اسد زبیر کی موت
واضح رہے کہ 24 اکتوبر کو ہنگو میں ایک چوکی میں دھماکا ہوا تھا جس کے بعد جائے وقوعہ پر جانے والے ایس پی کی گاڑی پر دوسرا دھماکا کیا گیا، جس میں واقعے کے نتیجے میں ایس پی اسد زبیر اور اُن کے دو گن مین شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے بروقت بندباندھ کر تحصیل فیروزوالہ اور شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچا لیں
سرکاری بیان
اس حوالے سے ترجمان پی ٹی آئی خیبرپختونخوا عدیل اقبال نے بتایا کہ کے پی حکومت نے پولیس کو جدید اسلحہ اور گاڑیوں سے لیس کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی
عدیل اقبال کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو متعدد بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور جن اضلاع میں مزید بلٹ پروف گاڑیوں کی ضرورت ہوگی، وہاں بھی فراہم کی جائیں گی۔








