ہنگو حملہ: شہید ایس پی اسد زبیر کے پاس حساس مقام پر جانے کیلئے بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی: ذرائع
ہنگو میں ایس پی اسد زبیر کی شہادت
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہونے والے ایس پی اسد زبیر کے پاس حساس مقام پر جانے کیلئے بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بحیرۂ احمر میں زیرِ سمندر کیبلز کٹنے سے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں انٹرنیٹ متاثر
دھماکے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق، ہنگو میں چوکی پر حملے کے بعد اس حساس جگہ پر جانے والے ایس پی اسد زبیر کے پاس بلٹ پروف گاڑی نہیں تھی، جس کے باعث ان کی گاڑی آئی ای ڈی دھماکے سے متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: دکی ؛ ندی کے کنارے کھیلتے ہوئے 4 کم عمر بہنیں ڈوب کر جاں بحق ہو گئیں
پہلے کے واقعات
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام پر چند سال قبل ایک ایس ایچ او کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ کچھ عرصہ قبل ضلع ہنگو میں ڈی پی او پر بھی حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں حالیہ ہفتے کے دوران ایک بار پھر ٹماٹر، چاول اور چینی سمیت 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ
سیکیورٹی کی کمی
ذرائع کے مطابق، ضلع ہنگو کو حساسیت کے باوجود صرف ایک بلٹ پروف گاڑی دی گئی ہے، جو کہ ڈی پی او ہنگو کے زیر استعمال ہے، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو ڈی ایس پی لیول تک بلٹ پروف گاڑیوں کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پیمرا کی تقرری، سینیٹ اور قومی اسمبلی پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے 2 نام شارٹ لسٹ کرلیے
ایس پی اسد زبیر کی موت
واضح رہے کہ 24 اکتوبر کو ہنگو میں ایک چوکی میں دھماکا ہوا تھا جس کے بعد جائے وقوعہ پر جانے والے ایس پی کی گاڑی پر دوسرا دھماکا کیا گیا، جس میں واقعے کے نتیجے میں ایس پی اسد زبیر اور اُن کے دو گن مین شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: منگنی ختم ہونے پر لڑکی کی نازیبا تصاویر وائرل کرنے والے کو 9 سال کی سزا
سرکاری بیان
اس حوالے سے ترجمان پی ٹی آئی خیبرپختونخوا عدیل اقبال نے بتایا کہ کے پی حکومت نے پولیس کو جدید اسلحہ اور گاڑیوں سے لیس کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی
عدیل اقبال کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو متعدد بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور جن اضلاع میں مزید بلٹ پروف گاڑیوں کی ضرورت ہوگی، وہاں بھی فراہم کی جائیں گی۔








