پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی: کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم ضرورت
امن کی ضرورت
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:199
جسٹس (ر) راجندر سچر نے کہا کہ "پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کریں اور ایسی پالیسی اپنانی چاہیے جس سے امن کو فروغ ملے۔ کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی بہت ضروری ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کیونکہ دونوں ہمسائے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجز میں داخلے روک دیئے، حکم امتناع جاری
وفود کا تبادلہ
"دونوں ملکوں کے درمیان اخوت، بھائی چارے کے لیے وفود کا تبادلہ بہت اچھا ہے۔ وکلاء، فن کار، دانشور، کھلاڑی، سیاستدان اور سکولوں کالجوں کے بچوں کے وفود کے باہمی خیرسگالی دوروں سے امن کو فروغ ملے گا۔ بھارت کے عوام بھی امن چاہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو ایران سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ منظور کر لینا چاہیے۔ یہ خطے کی معاشی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کی عدالت نے شراب برآمدگی کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے
معاشی روابط
"امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے اس منصوبے کو ترک نہ کیا جائے۔ امریکہ کے بھارت اور پاکستان سے مفادات ہیں۔ بھارت سے امریکی مفاد یہ ہے کہ بھارت بہت بڑی منڈی ہے۔ ہمارے ساتھ اس کا معاشی مفاد ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ جیوپولیٹیکل مفاد ہے۔ بھارت میں اس سال گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے اور بھارت آسٹریلیا سے گندم خرید رہا ہے۔ یہی اگر پاکستان سے خریدتا تو سستی پڑتی۔ باہمی تجارت سے دونوں ملکوں کو وسیع معاشی مفادات حاصل ہوں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے نجی ہوٹل سے جوان لڑکی کی لاش ملنے کے کیس میں حیران کن انکشاف
مثالی دورہ
جسٹس راجندر سچر نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ "پاکستانی صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اور بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک دوسرے کے ملک اور صوبے کا دورہ کر کے قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل اور بہتر تعلقات کے لیے عوامی دباؤ بڑھانا ہو گا۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے عوام جنگ سے نفرت کرتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے 2026ء کے داخلوں کا شیڈول جاری کر دیا
سیمی نار کا انعقاد
جسٹس راجندر سچر اور کلدیپ نیئر سے ملاقاتوں کے بعد ہم امرتسر آرٹس گیلری پہنچ گئے جہاں پاکستان اور بھارت کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس سیمینار میں دونوں اطراف کے مقررین نے جنوبی ایشیا کے خطہ میں خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات بنانے اور ویزہ پالیسی نرم کرنے پر زور دیا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ آئندہ سال سے بھارت کی طرح پاکستان میں بھی یوم آزادی کے موقع پر مشترکہ طور پر واہگہ بارڈر پر شمع روشن کر کے امن مارچ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا نے ایرانی سفیر کو ملک بدر کردیا، پاسداران انقلاب پر پابندی کی تیاری
فاتحہ اور حاضری
سیمینار کے اختتام پر دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔ جس کے بعد پاک، بھارت امن تحریک کے وفد نے جلیانوالہ باغ جا کر شہداء کے لیے فاتحہ پڑھی اور گولڈن ٹمپل حاضری دی اور اس شام ہی ہم واپس پاکستان لاہور پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: استثنیٰ پہ اعتراض ہے، ہم تو صرف آرمی چیف کو استثنیٰ دینے جا رہے ہیں، خواجہ آصف
لدھیانہ میں فیسٹیول
ستمبر 2007 ء میں راقم کو بطور صدر سٹیزن کونسل آف پاکستان مشرقی پنجاب بھارت کے شہر لدھیانہ میں قائم پروفیسر موہن سنگھ میموریل فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ) کی جانب سے ایک خط ملا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پنجابی زبان کے بڑے معروف شاعر پروفیسر موہن سنگھ کی یاد میں ان کے پیدائشی دن کے حوالے سے صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہر سال ایک کلچرل میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی شرکت
یہ میلہ انٹرنیشنل لیول پر منعقد ہوتا ہے جس میں انڈیا کے طول و عرض اور بیرون ممالک، جیسے یورپ، امریکہ، کینیڈا، جاپان، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے سیاسی شخصیات، حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی شخصیات، شعراء، فوک ڈانسرز، سنگیت کار، سماجی شخصیات، مصنفین اور سینئر قائدین شرکت کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








