ماہرہ خان کے چہرے کی تبدیلی پر مداحوں کی تنقید، بوٹوکس اور فلرز کی خبریں زیرِ گردش
ماہرہ خان پر تنقید کا طوفان
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی سپر سٹار ماہرہ خان اپنے چہرے کے خدو خال میں تبدیلی کے بعد تنقید کی زد میں آ گئیں، بوٹوکس اور فلرز کی خبریں گردش کرنے لگیں۔
یہ بھی پڑھیں: چکوال کو آفت زدہ قرار دلوایا جائیگا: گورنر پنجاب
سوشل میڈیا پر مقبولیت
پاکستان کی معروف اور خوبرو اداکارہ ماہرہ خان سوشل میڈیا پر 1 کروڑ 17 لاکھ سے زائد فالوورز رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے عالمی جوہری ادارے کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا
نئی فلم کی آمد
ماہرہ خان نے متعدد مشہور ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری سے لاکھوں دل جیتے، اب اپنی نئی فلم ’نیلوفر‘ میں ایک بار پھر فواد خان کے ساتھ نظر آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: مؤثر گلوکار بھارت میں دیوالی کے لائیو کنسرٹ میں سٹیج پر گر کر ہلاک
فلم کی تشہیری تقریب
حال ہی میں اداکارہ اپنی آنے والی فلم ’نیلوفر‘ کی تشہیری تقریب میں جلوہ گر ہوئیں تو مداحوں کے درمیان اِن کے چہرے کے بدلے ہوئے خدوخال پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیپ بال کرکٹ میچ: نوجوان بیٹر چھکا مارتے ہی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا
سوشل میڈیا کی بحث
لاہور میں فلم کی پروموشن کے دوران اِن کی حالیہ تصاویر وائرل ہوئیں تو سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ اداکارہ نے اپنے چہرے پر کاسمیٹک ٹریٹمنٹس کروائے ہیں جس میں لِپ فلرز، آئی برو لَفٹ، چیک اپ لفٹ یا بوٹوکس شامل ہے۔
مداحوں کے مطابق ماہرہ کے چہرے کے نقش پہلے کی نسبت زیادہ پھولے ہوئے اور کھنچے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جس سے اِن کی قدرتی مسکراہٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے اعلیٰ عدلیہ ججز کی پارلیمنٹ میں تقریروں کیخلاف درخواست خارج کردی
دلچسپ تبصرے
سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے دلچسپ اور طنزیہ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ نے ماہرہ خان کا موازنہ نورا فاتیحی، دیا مرزا، راکھی ساونت اور کین ڈول جیسی مشہور شخصیات سے کر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: ریل کی سیٹی جدائی اور ملن کا استعارہ بن گئی تھی، فجر سے ذرا پہلے دور کہیں جب بجتی تو دل میں عجب سا درد اٹھتا،کسی دوشیزہ کا کلیجہ آری کی طرح چیر دیتی ہوگی۔
مداحوں کی تشویش
کچھ مداحوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہرہ خان اب قدرتی خوبصورتی سے دور جا رہی ہیں۔
ماہرہ خان کی خاموشی
واضح رہے کہ ماہرہ خان کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی وضاحت یا ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے.








