مہنگائی کے تناسب سے شرح سود کو زیادہ سے زیادہ 6 سے 7 فیصد پر ہونا چاہیے، ایف پی سی سی آئی۔
حکومتی قرضوں میں کمی کی امید
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدرفیڈریشن آف پاکستان آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ مہنگائی کے تناسب سے، شرح سود کو زیادہ سے زیادہ 6 سے 7 فیصد پر ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد، طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بناکر بلیک میل کرنے والے 2 وین ڈرائیورز گرفتار
شرح سود میں کمی کا امکان
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی سے حکومتی قرضوں میں 3500 ارب روپے کمی کا امکان تھا۔ پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ کاروبار کی بہتری کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے تھیٹر انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کی ملاقات،نئے ڈرامہ ایکٹ پر تبادلۂ خیال
پیداواری لاگت میں کمی
شرح سود اگر سنگل ڈیجٹ میں ہوتی تو پیداواری لاگت کم ہوتی۔ پیداواری لاگت میں کمی سے مہنگائی میں کمی آتی ہے۔ شرح سود زیادہ رکھنا کرنسی سرکولیشن کو متاثر کرتا ہے۔
کاروباری ماحول پر اثرات
شرح سود کو برقرار رکھنے سے کاروباری ماحول شدید متاثر ہو گا۔








