میڈیا پرسنز کی توسط سے لاہور میں ’’فحش اور ڈانس پارٹیاں‘‘ہو رہی ہیں، ریڈیو میزبان و سوشل میڈیا انفلوئنسر محسن نوازکا دعویٰ۔
محسن نواز کا shocking بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا انفلوئنسر، موٹیویشنل اسپیکر اور ریڈیو میزبان محسن نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت میں خاص طور پر میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی وساطت سے فحش اور ڈانس پارٹیوں کا انعقاد بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شوکت یوسفزئی پارٹی قیادت پر پھٹ پڑے، عمران کی رہائی کیلئے موثر اقدامات نہ اٹھانے کا الزام
پولیس کی رپورٹ کے حیران کن انکشافات
محسن نواز نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ لاہور میں پارٹیوں کے انعقاد سے متعلق پولیس کی جاری کردہ رپورٹ میں shocking انکشافات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرفراز احمد نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا
لاہور میں ڈانس پارٹیوں کا بڑھتا رجحان
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پارٹیاں ہوتی ہیں لیکن لاہور میں یہ شرح باقی شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماضی میں، لاہور میں ڈانس پارٹیاں عام طور پر گیسٹ ہاؤسز میں ہوتی تھیں، مگر اب یہ کلبز اور بڑے بنگلوز میں منتقل ہو چکی ہیں، اور کچھ مقامات پر یہ پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر پوری رات جاری رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضا میں متعدد لڑاکا طیاروں کی پرواز، پاکستان نے بڑے حملے کی تیاری پکڑ لی ہے، ایوی ایشن صحافی کا دعویٰ
پارٹیوں میں منشیات کا استعمال
ڈانس پارٹیوں میں منشیات کا استعمال بھی عام دیکھنے میں آیا ہے۔ عام طور پر، پارٹیوں میں جوڑوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی لڑکا اکیلا بھی آتا ہے تو بھی اسے داخلے کی اجازت دی جاتی ہے اور اسے خاتون پارٹنر فراہم کرنے کے لیے اضافی پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا وی پی این سروسز بلاک کرنے کا تجربہ، کاروباری اداروں کا اظہار تشویش
شرکت کرنے والی خواتین کی تفصیلات
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ڈانس پارٹیوں میں ملازمت پیشہ یا تعلیم کے لیے لاہور میں رہنے والی لڑکیاں، طلاق یافتہ خواتین، اور ماضی میں ڈانس، تھیٹر اور دیگر کاموں میں مشغول خواتین شامل ہوتی ہیں۔ چھوٹے شہروں سے لاہور آنے والی لڑکیاں ہفتے کے اختتام پر ایسی پارٹیوں میں شامل ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خطرناک کھلاڑی قطری شہزادی نے پاکستان کی قاتل پہاڑی چوٹی نانگا پربت سر کر لیا
فیس اور منشیات کی قیمتیں
محسن نواز نے یہ بھی کہا کہ ڈانس پارٹیوں میں شرکت کے لیے ہر فرد 15 سے 20 ہزار روپے فیس ادا کرتا ہے، جبکہ وہاں نشے کی گولیاں 800 سے لے کر 30000 روپے تک فراہم کی جاتی ہیں، جنہیں کھانے کے بعد انسان کو 4 سے 5 گھنٹے تک بھوک محسوس نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبروں پر علی امین گنڈا پور کا رد عمل
میڈیا کے کردار پر الزام
انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں ایسی پارٹیاں دراصل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے توسط سے منعقد ہو رہی ہیں، لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے دعوے پولیس رپورٹ پر مبنی ہیں، حالانکہ انہوں نے اس رپورٹ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ویڈیو لنک








