میڈیا پرسنز کی توسط سے لاہور میں ’’فحش اور ڈانس پارٹیاں‘‘ہو رہی ہیں، ریڈیو میزبان و سوشل میڈیا انفلوئنسر محسن نوازکا دعویٰ۔
محسن نواز کا shocking بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا انفلوئنسر، موٹیویشنل اسپیکر اور ریڈیو میزبان محسن نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت میں خاص طور پر میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی وساطت سے فحش اور ڈانس پارٹیوں کا انعقاد بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگرد مارے گئے، 2 پولیس اہلکار شہید
پولیس کی رپورٹ کے حیران کن انکشافات
محسن نواز نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ لاہور میں پارٹیوں کے انعقاد سے متعلق پولیس کی جاری کردہ رپورٹ میں shocking انکشافات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالاکوٹ: پولیس نے 2 افغان اغواکاروں کو ہلاک کرکے کمسن مغوی بچے کو بازیاب کرلیا
لاہور میں ڈانس پارٹیوں کا بڑھتا رجحان
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پارٹیاں ہوتی ہیں لیکن لاہور میں یہ شرح باقی شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماضی میں، لاہور میں ڈانس پارٹیاں عام طور پر گیسٹ ہاؤسز میں ہوتی تھیں، مگر اب یہ کلبز اور بڑے بنگلوز میں منتقل ہو چکی ہیں، اور کچھ مقامات پر یہ پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر پوری رات جاری رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ
پارٹیوں میں منشیات کا استعمال
ڈانس پارٹیوں میں منشیات کا استعمال بھی عام دیکھنے میں آیا ہے۔ عام طور پر، پارٹیوں میں جوڑوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی لڑکا اکیلا بھی آتا ہے تو بھی اسے داخلے کی اجازت دی جاتی ہے اور اسے خاتون پارٹنر فراہم کرنے کے لیے اضافی پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا اعلان
شرکت کرنے والی خواتین کی تفصیلات
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ڈانس پارٹیوں میں ملازمت پیشہ یا تعلیم کے لیے لاہور میں رہنے والی لڑکیاں، طلاق یافتہ خواتین، اور ماضی میں ڈانس، تھیٹر اور دیگر کاموں میں مشغول خواتین شامل ہوتی ہیں۔ چھوٹے شہروں سے لاہور آنے والی لڑکیاں ہفتے کے اختتام پر ایسی پارٹیوں میں شامل ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور گیریژن پولو گراؤنڈ کے زیراہتمام 10واں بیٹل ایکس پولوکپ 2024ء شروع ہوگیا
فیس اور منشیات کی قیمتیں
محسن نواز نے یہ بھی کہا کہ ڈانس پارٹیوں میں شرکت کے لیے ہر فرد 15 سے 20 ہزار روپے فیس ادا کرتا ہے، جبکہ وہاں نشے کی گولیاں 800 سے لے کر 30000 روپے تک فراہم کی جاتی ہیں، جنہیں کھانے کے بعد انسان کو 4 سے 5 گھنٹے تک بھوک محسوس نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر میاں مسعود احمد خان بسی شریف انتقال کر گئے، تدفین کل پاکپتن میں ہو گی
میڈیا کے کردار پر الزام
انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں ایسی پارٹیاں دراصل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے توسط سے منعقد ہو رہی ہیں، لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے دعوے پولیس رپورٹ پر مبنی ہیں، حالانکہ انہوں نے اس رپورٹ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ویڈیو لنک








