ایمازون کا اپنے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ
ایمازون کی بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایمازون آئندہ ہفتے سے دنیا بھر میں تقریباً 30 ہزار کارپوریٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے اخراجات کم کرنے اور کووِڈ وبا کے دوران کی گئی زائد بھرتیوں کے اثرات کو متوازن کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں کشیدہ صورتحال؛ وزیراعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہوگئے
چھانٹی کا آغاز
خبر ایجنسی کے مطابق چھانٹی کا آغاز منگل سے ہوگا اور اس سے کمپنی کے مختلف شعبے متاثر ہوں گے، جن میں ہیومن ریسورسز، پیپل ایکسپریئنس اینڈ ٹیکنالوجی، آپریشنز، ڈیوائسز اینڈ سروسز، اور ایمازون ویب سروسز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہروں کا معاملہ: کراچی بار کی سٹی کورٹ میں ہڑتال، داخلی دروازے بند ، عدالتی کارروائی معطل
تاریخی ڈاؤن سائزنگ
یہ ایمازون کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈاون سائزنگ ہوگی، جو 2022 کے اواخر میں ہونے والی 27 ہزار ملازمین کی چھانٹی سے بھی زیادہ ہے۔ کمپنی کے تقریباً 3.5 لاکھ کارپوریٹ ملازمین میں سے یہ کمی تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجابیوں نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا
انتظامی ڈھانچے کی سادگی
سی ای او اینڈی جیسی نے حالیہ مہینوں میں کمپنی کے اندر ’بیوروکریسی‘ کم کرنے اور غیر ضروری انتظامی ڈھانچے کو سادہ بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے کئی انتظامی اور دفتری کام خودکار ہونے کے بعد انسانی عملے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ چھانٹی اس بات کی علامت ہے کہ ایمازون نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے اتنی پیداواری صلاحیت حاصل کر لی ہے کہ وہ اپنے کارپوریٹ ڈھانچے میں بڑی کمی کر سکتی ہے۔








