لاہور ہائی کورٹ: ماتحت عدالتوں کے دستخطوں کے موازنہ سے متعلق فیصلے کالعدم قرار
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد کا دستخطوں کی تصدیق سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ آ گیا، ماتحت عدالتوں کے دستخطوں کے موازنے سے متعلق فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے فرانزک سائنس لیبارٹری سے مرحوم کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے طلال چوہدری کو نوٹس جاری کر دیا
تفصیلات کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد سلیمان سمیت دیگر کی درخواستوں پر 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں دوستی کے تنازع پر خواجہ سرہ قتل
عدالت کے احکامات
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ عدالتوں کو جدید سائنسی اور فرانزک طریقے اپنانے چاہئیں، کسی بھی دستاویز کی اصلیت جانچنے کے لئے فرانزک شواہد انتہائی اہم ہیں، انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ انتہائی اہم ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گڈانی : خصوصی شخص بیٹے کو بچاتے ہوئے خود بھی ڈوب کر جاں بحق
فرانزک ٹیکنالوجی کی اہمیت
فیصلے میں کہا گیا کہ دنیا میں کسی دو افراد کے انگوٹھوں کے نشانات ایک جیسے نہیں ہو سکتے، جدید فرانزک ٹیکنالوجی انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مددگار ہے، عدالتوں کو فرانزک ماہرین کی رائے حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ بتدریج ترقی کے بعد ٹاپ 100 پاسپورٹس میں شامل ہوگیا
ماہرین کی رائے کی ضرورت
جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں لکھا کہ دستخطوں، لکھائی اور انگوٹھوں کے نشانات کے موازنے کیلئے ماہرین کی مدد ضروری ہے، عدالت ماہر رائے کی پابند نہیں مگر اس سے انصاف کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے، سائنسی شواہد کو نظر انداز کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فاروق عبداللہ کا بیان: جے شنکر کے پاکستان دورے پر تازہ ترین خبر
ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم
فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ 12 فروری اور 30 جون 2025 کے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتی ہے، فرانزک سائنس لیبارٹری سے مرحوم کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ کرایا جائے۔
درخواست گزاروں کی استدعا
واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے مرحوم محمد خالد کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزک موازنہ کرانے کی استدعا کی تھی، درخواست گزاروں نے نکتہ اٹھایا تھا کہ چار مرلہ پلاٹ کی فروخت کا معاہدہ جعلی ہے اور مرحوم نے دستاویز پر دستخط نہیں کئے۔








