این سی سی آئی اے افسران کو ڈکی بھائی کی اہلیہ سے ’رشوت لینے پر‘ گرفتار کیے جانے کا انکشاف
ایف آئی آر کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سمیت دیگر افسران کے خلاف درج ایف آئی آر کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ساری ذمہ داریاں کمپیوٹروں کو سونپی جا رہی ہیں لیکن پاکستان میں سوائے چند بڑے اسٹیشنوں کے، ابھی تک پرانا سیمافورسسٹم ہی چل رہا ہے۔
مقدمے کی درخواست
نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق مقدمہ یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں الزام ہے کہ یوٹیوبر کی فیملی سے مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے رشوت کے طور پر وصول کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 52 میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ شروع
رشوت کی وصولی کا معاملہ
ایف آئی آر کے مطابق تفتیشی افسر شعیب ریاض نے ڈکی بھائی کو ریلیف دلوانے کے لیے 60 لاکھ روپے رشوت وصول کیے، جو انہوں نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے لیے اور یہ رقم یوٹیوبر کے دوست عثمان نے فراہم کی۔ بعد ازاں شعیب ریاض نے ملزم کا جوڈیشل ریمانڈ کروانے کے لیے مزید 30 لاکھ روپے رشوت لی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال
افسران کی طرز عمل
ایف آئی آر میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ شعیب ریاض نے 50 لاکھ روپے اپنے فرنٹ مین کو کار شو روم کے مالک کے پاس رکھوائے، جب کہ 20 لاکھ روپے خود اپنے پاس رکھے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کو اس رقم میں سے 5 لاکھ روپے دیے گئے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے رشوت لی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خاتون پائلٹ نے بوائے فرینڈ سے جھگڑے کی وجہ سے خود کشی کر لی
مقدمے کے ملزمان
ایف آئی آر کے مطابق نو این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جن میں سے چھ کے بارے میں چند روز تک کچھ پتا نہیں چل رہا تھا، الزامات میں ان کے اختیارات کا غلط استعمال اور رشوت لینا شامل ہے۔ نامزد افسران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز، انچارج زاور احمد، سب انسپکٹر علی رضا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض، یاسر رمضان، مجتبیٰ ظفر اور اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز محمد عثمان شامل ہیں، جو چند روز سے لاپتہ تھے۔
عدالتی کارروائی
آج ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار کیے گئے چھ این سی سی آئی اے افسران کے وکیل نے لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کی، جس میں عدالت سے ان افسران کو پیش کرنے کی استدعا کی گئی۔








