پنجاب کی ایجوکیشن ریفارمز کی تحسین دوسرے صوبے بھی کرنے پر مجبور ہیں: رانا سکندر حیات
ڈیجیٹل صحافت ورکشاپ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ تعلیم پنجاب، گوگل اور ٹیک ویلی کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے 2 روزہ ’’ڈیجیٹل صحافت ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کا مقصد میڈیا کے شعبے سے وابستہ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور رپورٹنگ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں مس انفارمیشن و ڈس انفارمیشن کے تناظر میں فیکٹ چیکنگ کی تربیت بھی فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگزیب کا بھیس بدل کر جنرل ہسپتال لاہور کا دورہ
ورکشاپ کی تفصیلات
ورکشاپ میں رپورٹرز، پروڈیوسرز، اسائنمنٹ ایڈیٹرز، کنٹینٹ رائٹرز، وی لاگرز، پوڈکاسٹرز، تجزیہ کاروں اور بلاگرز کو اپنی رپورٹنگ کو زیادہ مستند، جامع اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے گوگل کے جدید ٹولز کے عملی استعمال پر تفصیلی تربیت دی گئی۔ ماہر ٹرینرز نے شرکاء کو ڈیجیٹل صحافت کے جدید تقاضوں، درست معلومات کی تصدیق اور انفارمیشن ویری فیکیشن کے مختلف طریقہ کار سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: الیکشن ٹریبونل نے 4 یوسیز کے انتخابی نتائج کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے
جدید ٹولز کی مہارت
شرکاء کو جدید ٹولز جیسے کہ گوگل ٹرینڈز، ریورس امیج سرچ، گوگل لینز، اور گوگل ایڈوانس سرچ کے مؤثر استعمال پر مہارت حاصل کرنے کے بارے میں راہنمائی فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تعلیمی ادارے کب تک بند رہیں گے؟ وزیر تعلیم کا بیان آ گیا
وزیر تعلیم کی گفتگو
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والا دور سکلز کا دور ہے۔ پنجاب حکومت نوجوانوں، طلبا اور صحافیوں کی سکل ڈویلپمنٹ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ میں رہنے والے میڈیا ورکرز کی پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئمہ بیگ کے ساتھ ڈنر پر نظر آنے والا شخص کون ہے؟
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی
رانا سکندر حیات نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں، صحافیوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ تحقیق پر مبنی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
تعلیمی اصلاحات
ورکشاپ کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت نے بورڈ کے ٹاپر بچوں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ نصاب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ پنجاب کی ایجوکیشن ریفارمز کی تعریف دوسرے صوبے بھی کر رہے ہیں۔








