این سی سی آئی اے افسران مبینہ گینگ بنا کر رشوت خوری کر رہے ہیں، ڈکی بھائی کو پکڑنے والے افسران کا 3 روزہ ریمانڈ منظور
لاہور میں ایف آئی اے افسران کی گرفتاری
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ این سی سی آئی اے لاہور میں مبینہ غیر قانونی گریٹیفیکیشن اور رشوت ستانی کے سنگین الزامات پر گرفتار ایف آئی اے افسران کے کیس میں عدالت نے 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 30 محمد نعیم وٹو نے سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: مرد کے دوسرے، تیسرے یا چوتھے نکاح پر شریعت میں کوئی قدغن نہیں،اسلامی نظریاتی کونسل
مبینہ کرپشن کا گینگ
دوران سماعت یہ بات بھی سامنے آئی کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں افسران نے کرپشن کیلئے مبینہ طور پر ایک گینگ تشکیل دے رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاؤن سینڈروم کے مرض میں مبتلا خصوصی بچے معاشرے کی توجہ کے مستحق ہیں: وزیر اعلیٰ پنجاب
عدالت میں ملزمان کی پیشی
عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان چوہدری سرفراز، یاسر رمضان، مجتبیٰ ظفر، علی رضا، ظفر احمد اور شعیب ریاض کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے گرفتاری پر سخت اعتراضات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ تمام ملزمان سرکاری افسران ہیں جنہیں بغیر کسی واضح ثبوت یا قانونی اجازت کے گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی گنے کی کرشنگ کی 15 نومبر ڈیڈ لائن آج ختم، 41 میں سے صرف 5 شوگر ملز نے عملدرآمد کیا
دفاع کے دلائل
وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نہ تو کسی رسید، ویڈیو یا بینک ریکارڈ میں رشوت کی ادائیگی ثابت کی گئی ہے، اور نہ ہی کسی گواہ کے بیانات مکمل طور پر ریکارڈ کیے گئے۔ علی اشفاق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر صرف 20 منٹ بعد درج کی گئی، جب کہ شکایت کنندہ کی درخواست میں تاریخ اور دن کا ذکر تک نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے حارث رؤف پر دو میچوں کی پابندی لگا دی
ایف آئی اے کا مؤقف
دوسری جانب ایف آئی اے کی نمائندہ ایڈیشنل لیگل افسر نائلہ شہزادی نے دفاع کے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ مقدمہ سنگل ایف آئی آر کے تحت درج کیا گیا ہے اور تمام کارروائیاں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انجام دی گئیں۔ ان کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹھوس مواد اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جو رشوت اور غیر قانونی مالی مفادات کے حصول کو ثابت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف سپین کے زیر اہتمام عمران خان کی حمایت میں ریلی، ڈاکٹر شہباز گل کی خصوصی شرکت
عدالت کا فیصلہ
ریکارڈ کے جائزے کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ مقدمے میں دو گروہوں کے ملزمان شامل ہیں۔ شکایت کنندہ کی جانب سے دی گئی درخواست کے مطابق، ایف آئی اے افسران شعیب ریاض (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) اور چوہدری سرفراز (ایڈیشنل ڈائریکٹر) پر الزام ہے کہ انہوں نے شکایت کنندہ (عروب جتوئی) کے شوہر کی رہائی کے لیے رشوت وصول کی، جو ایک دیگر کیس (ایف آئی آر 196/2025) میں گرفتار تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 18 سال بعد گرم ترین دن، پارہ کتنا رہا؟
شکایت کنندہ کے ثبوت
شکایت کنندہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ادائیگی کے وقت اس کے بھائی ضیاء الرحمان موجود تھے جنہوں نے چیکوں اور رقم کی تصاویر بطور ثبوت فراہم کیں۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں معلوم کہ ہماری شادی چلے گی یا نہیں، رجب بٹ کی انسٹا پوسٹ وائرل
مزید تحقیقات کی ضرورت
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ شکایت کنندہ کی درخواست میں بعض تفصیلات درج نہیں ہیں، تاہم گواہوں کے بیانات اور مالی شواہد ابتدائی طور پر یہ دکھاتے ہیں کہ غیر قانونی گریٹیفیکیشن کی ادائیگی ہوئی۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کیس مزید چھان بین اور وصولیوں کا متقاضی ہے۔
ریمینڈ کا حکم
جوڈیشل مجسٹریٹ محمد نعیم وٹو نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے اور ممکنہ وصولیوں کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ عدالت نے تمام ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں 31 اکتوبر 2025 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔








