شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے؟ جسٹس اعجاز انور کا شاندانہ گلزار سے استفسار
آئینی بنچ کی کارروائی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔ آئینی بنچ نے شبلی فراز کی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل نمٹا دی، عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو شبلی فراز کی زیر التواء درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میرے سسر بے حد خوش تھے،چچا سسر نے ناراضی کا اظہار کیا جس پر انہیں بتا دیا کہ جائز کام کسی کا بھی ہو اس میں مدد اور تعاون کرنا اپنا فریضہ سمجھتا ہوں
سینیٹ الیکشن کی صورتحال
عدالت نے شبلی فراز کی خالی سیٹ پر سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سینیٹ الیکشن میں مداخلت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا آئیڈیاز 2024 کا دورہ، ملکی و غیرملکی عسکری حکام سے ملاقاتیں
دوران سماعت کی تفصیلات
دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ کا الیکشن ہے، استدعا ہے کہ الیکشن شیڈول معطل کریں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ سینیٹ الیکشن کے لیے جب آپ نے امیدوار نامزد کر دیا تو پھر حکم امتناع کیوں مانگ رہے ہیں؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ امیدوار نامزد کرنا تو مجبوری تھی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے بیرسٹر گوہر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، امیدوار نامزد کیا ہے تو پھر حکم امتناعی کیوں مانگ رہے ہیں؟ کل کتنی سیٹوں پر الیکشن ہے؟
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی فرد جو قومی سلامتی کو خطرہ پہنچائے اسے ملک بدر کیا جائے گا: امریکہ
وکیل کی وضاحت
وکیل بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ صرف ایک سیٹ پر الیکشن ہے، دو آئینی آفس سے ہمیں بے آبرو کرکے نکالا ہے، آپ الیکشن پر حکم امتناع کر دیں، سینٹ کا الیکشن روک دیں۔
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پشاور ہائیکورٹ کے کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ ختم کر دیا، عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔








