شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی زائرین کے لئے انفرادی حیثیت میں عراق جانے پر پابندی
آئینی بنچ کی کارروائی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔ آئینی بنچ نے شبلی فراز کی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل نمٹا دی، عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو شبلی فراز کی زیر التواء درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی بریک پیڈز پاکستان کے ریلوے نظام کی ترقی میں مددگار مگر کیسے، تفصیلات سامنے آگئیں
سینیٹ الیکشن کی صورتحال
عدالت نے شبلی فراز کی خالی سیٹ پر سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سینیٹ الیکشن میں مداخلت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے اعتراض کے بعد حکومت نے 27 ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کو نہ چھیڑنے کا عندیہ دے دیا
دوران سماعت کی تفصیلات
دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ کا الیکشن ہے، استدعا ہے کہ الیکشن شیڈول معطل کریں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ سینیٹ الیکشن کے لیے جب آپ نے امیدوار نامزد کر دیا تو پھر حکم امتناع کیوں مانگ رہے ہیں؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ امیدوار نامزد کرنا تو مجبوری تھی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے بیرسٹر گوہر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، امیدوار نامزد کیا ہے تو پھر حکم امتناعی کیوں مانگ رہے ہیں؟ کل کتنی سیٹوں پر الیکشن ہے؟
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا فوری ایکشن، ستھرا پنجاب کے ورکرز کو تنخواہیں دلا دیں، کنٹریکٹرز کو فائنل وارننگ جاری
وکیل کی وضاحت
وکیل بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ صرف ایک سیٹ پر الیکشن ہے، دو آئینی آفس سے ہمیں بے آبرو کرکے نکالا ہے، آپ الیکشن پر حکم امتناع کر دیں، سینٹ کا الیکشن روک دیں۔
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پشاور ہائیکورٹ کے کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ ختم کر دیا، عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔








