وزیراعظم چودھری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے لیے شرط عائد کردی: ذرائع
وزیراعظم آزاد کشمیر کی مستعفی ہونے کی شرط
مظفرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے لیے شرط عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن نے اپنے شہریوں کے لیے گلگت بلتستان کے حوالے سے نئی سفری ہدایات جاری کر دیں
وزراء اور اراکین اسمبلی کے لیے گارنٹی کی ضرورت
روزنامہ جنگ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری انوارالحق نے حامی وزراء اور اراکین اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز اور جاری منصوبوں کی گارنٹی مانگ لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے این ایف نے خلیجی ممالک میں منشیات اسمگل کرنے میں ملوث گروہ کے اہم کارندوں کو گرفتار کرلیا
ن لیگ کی شمولیت
ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے وزراء اور ٹکٹ ہولڈرز کو بھی آئندہ الیکشن سے قبل برابری کی بنیاد پر فنڈز دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کبھی سن لیں گے فرصت میں۔۔۔
تحریک عدم اعتماد کا ڈیڈ لاک ختم
دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 35 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان
انتخابات کی شرط پر حمایت
ذرائع کے مطابق ن لیگ نے قبل ازوقت انتخابات کی شرط پر عدم اعتماد میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز کشمیر کانفرنس، آزاد کشیمر حکومت کا 16 فروری کو عام تعطیل کا اعلان
نئے وزیراعظم کی تعیناتی
ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا وزیراعظم آئینی عہدوں پر التواء کی شکار تعیناتیاں کروا کر انتخابات کی راہ ہموار کرے گا۔ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد مسلم لیگ کے وزراء مستعفی ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہر علم نجوم سامعہ خان نے قومی کرکٹر بابراعظم اور اداکارہ ہانیہ عامر کو رواں سال شادی نہ کرنے کا مشورہ دیدیا
ساده اکثریت کی ضرورت
ذرائع نے کہا کہ مسلم لیگ ن عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کے بعد اپوزیشن بینچز پر بیٹھے گی۔ وزیراعظم انوارالحق اگر مستعفی نہ ہوئے تو کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔
اکثریت کا دعوی
وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لیے 27 اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ مسلم لیگ ن کی حمایت کے بعد پیپلز پارٹی نے 36 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کر لیا ہے۔








