آزاد کشمیر میں وزیراعظم کی تبدیلی پر نواز شریف نے ہی فیصلہ کرنا ہے، راجہ فاروق حیدر
پارلیمانی لیڈر کا بیان
مظفرآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کیلئے ایوانِ صدر کا استعمال درست نہیں تھا، ایوان صدر میں آزاد کشمیر کے سیاسی بحران پر 3 اجلاس ہونا درست عمل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کانگریس اور دیگر کٹر ہندو جماعتوں کا خوف: اگر مسلمان آزاد ہوگئے تو ہند تقسیم ہو جائے گا اور مسلمان اپنی زمین کو جنت بنائیں گے
میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو اس معاملے میں خصوصی احتیاط کرنا چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی ریلا جھنگ میں داخل، آج شام تک 10 لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان سے گزرے گا
نواز شریف کا فیصلہ
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم کی تبدیلی پر نواز شریف نے ہی فیصلہ کرنا ہے، پیپلز پارٹی بھی اپنی قیادت، آصف زرداری یا بلاول بھٹو سے مشاورت کے بعد فیصلے کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: نئے بجٹ میں سولر پینلز کی درآمد پر اضافی ٹیکس لگانے کا فیصلہ نہیں ہوا، چیئر مین ایف بی آر
اجلاس کی نوعیت
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں اجلاس ہوا، اس میں کوئی قباحت نہیں، ایوانِ صدر میں اجلاس نے آزاد کشمیر کی سیاسی تبدیلی پر سوالات کھڑے کردیئے۔
سیاسی غیر جانبداری
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایوانِ صدر کا استعمال سیاسی غیر جانبداری کے اصولوں کے منافی ہے، فیصلہ پیپلز پارٹی ضرور کرے لیکن ریاستی علامتوں کا سیاسی استعمال درست نہیں، وفاقی وزرا کو بھی آزاد کشمیر کے معاملے پر اس طرح گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔








