جو پیسے دے کر وزیر بنیں گے، کرپشن کیوں نہیں کریں گے؟ عظمیٰ بخاری نے کے پی کابینہ کے حوالے سے سوال اٹھا دیا
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کا بیان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبے بعد میں شروع ہوتے ہیں، مگر پہلے ہی ان کے حصے بانٹنے کی بولیاں لگ جاتی ہیں۔ 40 ارب روپے کے کوہستان کرپشن سکینڈل اس کی ایک بڑی مثال ہے، جو خیبر پختونخوا حکومت کے ''شفافیت'' کے دعووں کی قلعی کھولتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی وی پر بولے جانے والے پنجابی کے ایک لفظ سے پورے ملک میں وائرل ہونے والا سیلاب سے متاثرہ لڑکا سامنے آگیا۔
پنجاب میں ترقیاتی منصوبے
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صرف ایک سال میں 80 ترقیاتی منصوبے شروع کیے جبکہ پنجاب حکومت 50 سے زائد منصوبے بالکل شفافیت کیساتھ مکمل کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو حادثہ
بیرسٹر سیف کے بیان پر رد عمل
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیرسٹر سیف کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریم نواز کے کسی ایک بھی منصوبے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، کیونکہ پنجاب میں تمام ترقیاتی کام میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل اور کراچی کے وکلا کے درمیان مذاکرات کامیاب
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال
خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ کی تشکیل سے پہلے ہی وزارتوں کے لیے بولیاں لگ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اچھی وزارتوں کے لیے ایک ارب سے 70 کروڑ روپے تک کے ریٹ طے کیے جا رہے ہیں، جو وہاں کی سیاسی ثقافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں مائنس ون فارمولا لاگو ہی نہیں ہو سکتا، سینیٹر علی ظفر
سوالات اور تشکیک
وزیر اطلاعات پنجاب نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ پیسے دے کر وزیر بنیں گے، وہ کرپشن کیوں نہیں کریں گے؟ نواز شریف کے ویژن ''ہیلتھ کارڈ'' پر اپنی مہر لگوانے والے آج ہمیں کاپی پیسٹ کے طعنے دے رہے ہیں، جو انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
پنجاب حکومت کا ایجنڈا
پنجاب حکومت عوامی خدمت کے ایجنڈے پر گامزن ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں سیاسی بولیوں اور کمیشن کلچر نے ترقی کے تمام دعوے دفن کر دیئے ہیں۔








