26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے نظام عدل کو روندا جارہا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس ملک کے نظام عدل کو روندا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں اور اپنے لیڈر عمران خان سے پالیسی گائیڈ لائن لینے کے لیے ملنا چاہتے تھے، اور اس کے لئے تمام قانونی راستے اختیار کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی ’’ آف کلر ‘‘نظر آئے
وزیراعلیٰ کی وکلا کے سامنے گفتگو
پشاور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملاقات کے لئے وزیراعظم کو درخواست دی، اور پنجاب اور وفاق کے محکمہ داخلہ اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔ جب کچھ نہ ہوا تو وہ ہائیکورٹ گئے جہاں 3 ججوں کے بنچ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا کہ انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ تاہم، جب وہ اڈیالہ پہنچے تو ایک حوالدار نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صورتحال کسی سیاسی جماعت یا وزیراعلیٰ کی کمزوری نہیں بلکہ ہماری عدلیہ اور ججز کی بے بسی کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور گیریژن پولو گراؤنڈ کے زیراہتمام 10واں بیٹل ایکس پولوکپ 2024ء شروع ہوگیا
پشاور میں امن و امان کا اہمیت
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لوگوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ اس لئے خاموش ہیں کہ ان کا گھر جل رہا ہے تو یہ خوش فہمی میں نہ رہیں کیونکہ یہ آگ آپ کے گھر بھی پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو شہید کیا گیا، عمران ریاض کو اٹھایا گیا اور صحافیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگرچہ ہم بندوق نہیں اٹھائیں گے، لیکن ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے بوئنگ 777 طیارے کی ونڈ شیلڈ پھر ٹوٹ گئی، طیارہ کس ملک میں گراؤنڈ ہو گیا؟ جانیے
تعلیمی اصلاحات کا آغاز
سہیل آفریدی نے کہا کہ چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت خیبرپختونخوا میں یکساں نظام تعلیم پر کام شروع ہوچکا ہے۔ پہلی جماعت سے آٹھویں کلاس تک یکساں نظام تعلیم نافذ کیا جا چکا ہے اور آٹھویں سے بارہویں کلاس تک یہ نظام 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔ اس کا مقصد ہے کہ تمام بچوں کے لئے یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
امن و امان کے لیے قانون سازی
انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کی صورت حال میں لوگوں کو مزید بہتری کے لئے ساتھ دینا ہوگا کیونکہ دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون سازی کرنے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ کسی معصوم کی جان نہ جائے اور اگر ایسی صورت پیش آئے تو ذمہ داروں کے خلاف سختی سے کاروائی کی جائے۔
”چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس ملک کے نظام عدل کو روندا جارہا ہے۔ میں ایک جمہوری طریقے سے آیا ہوں ہر میں وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد اپنے لیڈر عمران خان سے پالیسی گائیڈ لائن لینے کے لیے ملنا چاہتا تھا۔








