طالبان نے کابل یونیورسٹی میں “تشکیلِ استشہادی” کے نام پر خودکش حملہ آوروں کی رجسٹریشن شروع کر دی
افغان طالبان کی نئی بھرتیاں
کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف خود کش حملوں کے لیے نوجوانوں کی بھرتیاں شروع کردیں۔ اب تک 700 سے زائد "رضاکار" اپنی رجسٹریشن کرواچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یاد رکھیے اگر مگر، چاہیے اور کاش یہ سب “موجود لمحے” کو نظرانداز کرنے کے بہانے ہیں، مستقبل میں زندگی نیا رخ اختیار کرے گی.
کابل یونیورسٹی میں سیکشن کا قیام
آماج نیوز کو موصول ہونے والے دستاویزات و ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے آج کابل یونیورسٹی میں ایک سیکشن قائم کیا جس کا نام "تشکیلِ استشہادی" رکھا گیا اور اس میں پاکستان میں حملے کے لیے تیار چند نوجوانوں نے خود کو رجسٹر کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: کرنٹ لگنے سے اموات ، گیپکو پر 2کروڑ30روپے جرمانہ عائد ، متاثرہ خاندانوں کو 40لاکھ فی کس اور ایک فرد کو ملازمت دینے کا حکم
دیگر ولایتوں میں بھی بھرتیاں
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے اندراجی اقدامات طالبان نے بعض دوسری ولایتوں میں بھی شروع کیے ہیں اور دستاویزات کے مطابق اب تک 700 سے زائد افراد نے پاکستان میں خودکش حملوں کے لیے اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب بھی پارلیمان میں ہماری اکثریت آئی تو 27 ویں آئینی ترمیم کو ریورس کریں گے، بیرسٹر گوہر
رضاکاروں کی تفصیلات
آماج نیوز کو بھیجے گئے حوالہ جات میں بتایا گیا ہے کہ رجسٹر ہونے والے افراد میں نوجوان شامل ہیں جو خود کش حملوں کے لیے رضاکارانہ طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس مہم کا دائرہ کار مختلف علاقائی مراکز تک پھیلا ہوا ہے.
عالمی تشویش
ابھی تک افغان طالبان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل یا تردید سامنے نہیں آئی۔ مقامی اور بین الاقوامی سلامتی حلقے اس رپورٹ کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں خدشات ظاہر کر رہے ہیں.








