افغانستان کی ایک دو بار پھر تسلی تشفی ہوگی تو مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے، رانا ثنا اللہ
افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تسلی تشفی ایک بار ہوچکی ہے، اور اگر ایک دو بار پھر یہ عمل ہو تو مذاکرات میں کامیابی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 4300 بھکاریوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے
بھارت کے ساتھ طاقت کا موازنہ
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بیان کیا کہ بھارت ہم سے بڑی قوت ہے، معرکہ حق دس بارہ گھنٹے چلا اور پھر ان کو آرام آگیا۔ بھارت کی فوج ہماری فوج سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو پاکستان کی سیاست سے مائنس نہیں کیا جا سکتا: فواد چودھری
مذاکرات کی حکمت عملی
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ میں فیلڈ مارشل کی حکمت عملی سے اتفاق کرتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہی ہونا ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے جب تک افغانستان کی تسلی تشفی نہیں ہوگی۔ ایک بار یہ عمل ہو چکا ہے، اور اگر دوبارہ کیا گیا تو مذاکرات کی کامیابی ممکن ہے۔
جنگ میں حکمت عملی کی اہمیت
رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ میں صرف فوج ہی نہیں لڑتی، بلکہ سپہ سالار کی حکمت عملی بھی مقابلہ کرتی ہے۔








