افغانستان کی ایک دو بار پھر تسلی تشفی ہوگی تو مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے، رانا ثنا اللہ
افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تسلی تشفی ایک بار ہوچکی ہے، اور اگر ایک دو بار پھر یہ عمل ہو تو مذاکرات میں کامیابی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان نشریات میں لائیو کالر نے بابر اعظم کو ٹیم سے نکالنے کا وظیفہ پوچھ لیا
بھارت کے ساتھ طاقت کا موازنہ
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بیان کیا کہ بھارت ہم سے بڑی قوت ہے، معرکہ حق دس بارہ گھنٹے چلا اور پھر ان کو آرام آگیا۔ بھارت کی فوج ہماری فوج سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ سے زیادہ پی ٹی آئی خطرناک ہے، فیصلہ کرلیں علیمہ باجی نے سیاست کرنی ہے یا بشریٰ بی بی نے: عظمٰی بخاری
مذاکرات کی حکمت عملی
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ میں فیلڈ مارشل کی حکمت عملی سے اتفاق کرتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہی ہونا ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے جب تک افغانستان کی تسلی تشفی نہیں ہوگی۔ ایک بار یہ عمل ہو چکا ہے، اور اگر دوبارہ کیا گیا تو مذاکرات کی کامیابی ممکن ہے۔
جنگ میں حکمت عملی کی اہمیت
رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ میں صرف فوج ہی نہیں لڑتی، بلکہ سپہ سالار کی حکمت عملی بھی مقابلہ کرتی ہے۔








