خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت
لاہور کی ضلعی کچہری کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) - لاہور کی ضلعی کچہری نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو بنانے کے مقدمے میں گرفتار ملزم ممنون حیدر کی ضمانت خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی: پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت تاخیر کا شکار
مقدمے کی سماعت
رپورٹ کے مطابق ضلعی کچہری لاہور میں خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ مقدمے میں مدعی کی جانب سے مدثر چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: 213 ارب روپے کے میونسپل ٹیکس کا معاملہ، رؤف کلاسرا کے بیان پر احسن اقبال کی وضاحت آگئی
عدالتی فیصلہ
عدالت نے ملزم ممنون حیدر کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ضمانت ملزم کا قانونی حق سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقابلِ ضمانت جرائم میں یہ حق لاگو نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کردیا
قابلِ اعتراض ویڈیو
فیصلے میں بتایا گیا کہ تفتیش سے ظاہر ہوا کہ ملزم ممنون حیدر کے موبائل فون سے قابلِ اعتراض ویڈیو بنائی گئی، جو کہ ایک سنگین سائبر کرائم ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یہ افراد کی ساکھ اور نجی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی عرفان شفیع کھوکھر مرحوم اور میاں مرغوب احمد کی رہائش گاہوں پر آمد
الزامات اور اپیل
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم پر عائد الزامات کے تحت درج دفعات ناقابلِ ضمانت ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ممنون حیدر کی سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں اس کی سزا معطلی کی استدعا منظور کی جاچکی ہے۔
نتیجہ
ضلعی عدالت نے موجودہ کیس میں ملزم ممنون حیدر کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔








