چین میں تعلیم سے چین میں تدریس تک، پاکستانی اساتذہ کی محنت اور جذبے نے چینی طلباء کے دل جیت لیے
پاکستانی اساتذہ کا چین میں مقام
جنان(شِنہوا) شان ڈونگ ویمنز یونیورسٹی کے سکول آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 2 غیر ملکی اساتذہ حضرت حسن اور شباحت علی کو طلباء بہت پسند کرتے ہیں۔ طلباء انہیں "دلچسپ نصف چینی" کہتے ہیں اور وہ خود کہتے ہیں کہ "ان کا مستقبل روشن ہے اور انہیں چین میں زندگی بامعنی لگتی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: چلتی ہی جا رہی ہے عمر رواں کی ریل، ہم کو یہیں اترنا ہے زنجیر کھینچیے۔۔۔گاڑی کی زنجیر کو شاعروں ادیبوں نے بڑا رومانوی اور معنی خیز رنگ دیا ہے
ڈاکٹر حضرت حسن کی کہانی
35 سالہ ڈاکٹر حضرت حسن نے سیچھوان یونیورسٹی سے مینیجمنٹ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں گریجویشن کی اور 2024 میں جیانگسو یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی تیز رفتار معاشی و سماجی ترقی اور اعلیٰ تعلیمی معیار نے مجھے یہاں آنے پر راغب کیا۔ بطور بین الاقوامی طالب علم میری توجہ تعلیم حاصل کرنے اور ہم عمروں سے دوستی بنانے پر تھی۔ اب بطور استاد میری توجہ طلباء کی رہنمائی اور اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے ایک نئے جدید فیچر کو متعارف کروا دیا ، صارفین کا اہم مسئلہ حل ہو گیا
چینی اور پاکستانی حکومتوں کا تعاون
اس سال عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومتوں کے درمیان دستخط ہونے والے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل قریبی چین-پاکستان معاشرے کے قیام کے ایکشن پلان (2025-2029) میں کہا گیا ہے کہ طلباء، اساتذہ اور محققین کے درمیان تبادلے کو مزید فروغ دیا جائے اور دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کی صلاحیت سازی اور سائنسی تحقیق جیسے شعبوں میں عملی تعاون کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کے لیے 36 رنز کا ہدف
کیرئیر کے نئے مواقع
چین میں پاکستانی نوجوانوں کے لئے اب کیریئر کے مزید مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں حضرت حسن انگریزی میں 2 مضامین پروفیشنل انگلش اور پبلک سپیکنگ پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے بہتر تدریس کے لئے انگریزی اور چینی الفاظ پر مبنی 2 لسانی سلائیڈز تیار کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کبھی کبھار طلباء زبانی اظہار میں شرمیلے ہوتے ہیں تو میں انہیں حوصلہ دیتا ہوں کہ تلفظ درست نہ بھی ہو تو بلا جھجک بولیں۔ اب کلاسز زیادہ موثر ہو گئی ہیں۔ کلاس کے بعد بھی طلباء مجھے ای میل کے ذریعے علمی سوالات بھیجتے ہیں۔ چینی طلباء بہت محنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے حالات غلط پالیسیوں کی وجہ سے خراب ہوئے: علی امین گنڈا پور
چین کے بارے میں احساسات
چین کے بارے میں اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے حضرت حسن نے 3 الفاظ "بہت" استعمال کئے "بہت بڑا، بہت خوبصورت، اور بہت ہم آہنگ۔" انہوں نے کہا کہ لوگ بہت مہذب ہیں اور انسانوں کے درمیان گرمجوشی پائی جاتی ہے۔ سب خوشحال اور مستحکم زندگی کے خواہاں ہیں۔ ایک پاکستانی کہاوت ہے کہ "اچھا پڑوسی ایک نعمت ہے" اور چینی بھی کہتے ہیں کہ "قریب کا پڑوسی دور کے رشتہ دار سے بہتر ہے۔" اب ان کی اہلیہ اور 2 بچے بھی شان ڈونگ میں مقیم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تشدد یا ہراسانی ہرگز برداشت نہیں، پنجاب خواتین کیلئے محفوظ ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
ثقافتی تبادلے میں کردار
’’چین کو سمجھنے‘‘ سے’’چین کو بانٹنے‘‘ تک پاکستانی اساتذہ چین کی تبدیلیوں کو قریب سے محسوس کر رہے ہیں، اس کی وسعت اور شمولیت کے گواہ بن رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کا پل تعمیر کر رہے ہیں۔ حضرت حسن نے کہا کہ میں اکثر اپنے پاکستانی دوستوں اور ہم جماعتوں کو ترغیب دیتا ہوں کہ وہ تعلیم اور ذاتی ترقی کے مواقع کے لئے چین آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا برطانیہ سے فوری پاکستان آنے کا فیصلہ، اہم اجلاس طلب
شباحت علی کی خدمات
36 سالہ شباحت علی نے ہاربن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سکول آف اکنامکس اینڈ مینیجمنٹ میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے موسم سرما اور گرما کی تعطیلات میں بارہا پاکستانی جامعات میں معلوماتی نشستیں منعقد کیں جن میں انہوں نے چینی ثقافت اور اعلیٰ تعلیمی نظام سے طلباء کو متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم سے استاد بننے تک میں نے چین کے علمی ماحول کی محنت، وسیع النظری اور جدت پسندی کو گہرائی سے محسوس کیا ہے۔ اب مجھے فخر ہے کہ میں اپنے طلباء کو چین کے قومی حالات کی بنیاد پر بین الاقوامی نقطہ نظر سے تحقیق میں رہنمائی فراہم کر رہا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ طاہر اشرفی کے چھوٹے بھائی حافظ محمد احمد انتقال کر گئے
مقامی نوجوانوں کے لئے مواقع
شان ڈونگ ویمنز یونیورسٹی کے سائنسی تحقیقاتی دفتر کی نائب ڈائریکٹر ژانگ چھون مئی نے بتایا کہ پاکستانی اساتذہ نے چین میں اپنے مشاہدات اور تحقیقات کی بنیاد پر متعدد اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی تحقیقی مقالے شائع کئے ہیں اور کئی بین الاقوامی علمی تبادلوں میں حصہ لیا ہے۔ یونیورسٹی انہیں باقاعدگی سے علمی تجربات پر مبنی لیکچر دینے کی دعوت دیتی ہے تاکہ مقامی نوجوان اساتذہ اپنی بین الاقوامی علمی بصیرت کو وسعت دے سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ
درجات کی شفافیت
بزنس ایڈمنسٹریشن ٹیچنگ اینڈ ریسرچ آفس کے ڈائریکٹر شو لئی نے بتایا کہ یونیورسٹی نے غیر ملکی اساتذہ کے لئے منصفانہ اور شفاف پیشہ ورانہ درجہ بندی کے نظام اور جامع کیریئر کی ترقی کے راستے قائم کئے ہیں۔ اس دوستانہ ماحول میں پاکستانی اساتذہ اپنے فارغ وقت میں چینی زبان اور گرائمر سیکھنے کے لئے مقامی اساتذہ سے مشورہ کرتے ہیں اور اب وہ زبردست جیسے چینی محاوراتی الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اوورسیز کمیونٹی گلوبل ٹیم کی قونصل جنرل آف پاکستان کے قونصل جنرل سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال
ثقافتی تعلقات کی मजबूत بنیاد
پاکستانی اساتذہ چینی طلباء کے لئے پاکستانی ثقافت اور روایات سے واقف ہونے کا ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔ کلاس کے بعد طلباء ان سے اکثر پوچھتے ہیں کہ "پاکستان میں گھومنے کے لئے کون سی دلچسپ جگہیں ہیں؟" ، "وہاں کون سے مزیدار کھانے ملتے ہیں؟" ، "وقت کا فرق کتنا ہے؟" یا "آپ کے ملک کی یونیورسٹیوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟" بزنس اینڈ مینیجمنٹ سکول کی 2023 بیچ کی طالبہ لیو پھنگ نے کہا کہ ہم انہیں اپنے آبائی علاقوں کی مقامی چیزیں چکھنے کے لئے دیتے ہیں اور وہ ہمیں پاکستانی خشک میوہ جات تحفے میں دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں ڈے کیئر سینٹرز بنانے کا فیصلہ
محبت اور تعلقات کا ماحول
یہ انسانی ہمدردی اور جامع تعلیمی ماحول چین میں بین الاقوامی اساتذہ اور طلباء کے احساس تحفظ اور وابستگی کو مضبوط کر رہا ہے جو انہیں طویل مدتی طور پر تدریس اور تحقیق پر توجہ دینے کے قابل بناتا ہے۔
آنے والی نسلوں کے لئے امید
حضرت حسن نے کہا کہ جیسے جیسے تحقیقی تعاون اور ثقافتی تبادلے مزید گہرے ہوں گے، پاک-چین دوستی مزید مضبوط ہوگی۔








