افغان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ بہت بڑی کامیابی ہے: طلال چودھری
پاک افغان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو وزیر صحت نامزد کردیا
میکانزم کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ 6 نومبر کو میکنزم طے کیا جائے گا، مشترکہ مانیٹرنگ سسٹم پر 6 نومبر کو بات چیت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اس وقت پاکستانیوں کو خیرات کی نہیں، ایک قوم بنانے کی ضرورت ہے، تجزیہ کار عثمان شامی
پاکستان کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات
امید ہے کہ اب افغانستان سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی نہیں ہوگی، خلاف ورزی پر پاکستان افغانستان میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر جنگ 1948ء، رن آف کچھ جھڑپ اور پاک، بھارت جنگ 1965ء تینوں جنگوں میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا، 71ء میں ایثار کی ضرورت تھی۔
افغانستان کا امن اور علاقائی خودمختاری
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ کسی کی بھی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ وزیر مملکت نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان بھارت کی پراکسی بنا تو ہوسکتا ہے افغانستان اپنی خودمختاری کھو بیٹھے۔
بھارت کی ضمانت کا سوال
طلال چودھری کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کو سمجھنا چاہئے کہ بھارت ان کی سلامتی و خودمختاری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔








