پارا چنار حملہ کیس: راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، دشمن پہچانیں: سپریم کورٹ
پارا چنار حملہ کیس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی نے پارا چنار حملہ کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ جہاں پارا چنار حملہ ہوا وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، اپنا دشمن پہچانیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کہتا ہے تم جتنی مرضی ترامیم کر لو میں تمہارا مقابلہ کروں گا،شہریار آفریدی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پارا چنار قافلے پر حملے کے دوران گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت سپریم کورٹ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 189 شہروں کی تعمیر و ترقی کی منظوری،ہر شہر کو جمالیاتی طور پر بہترین نظر آنا چاہیے: مریم نواز
واقعے کی شدت
دورانِ سماعت سی ٹی ڈی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں 37 افراد جاں بحق جبکہ 88 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اس واقعہ میں ایک ہی بندے کی شناخت ہوئی ہے کیا؟ جو حملہ کرنے پہاڑوں سے آئے تھے، ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سکولز میں خواتین اساتذہ کیلئے شلوار قمیض اور دوپٹہ لازم قرار
قانونی کارروائی
وکیل نے جواب دیا کہ ان میں سے 9 لوگوں کی ضمانت سپریم کورٹ نے خارج کی ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ اب کیا صورت حال ہے، راستے کھل گئے ہیں؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ صبح 9 بجے سے دن 2 بجے تک راستے کھلے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ 2025-26، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کی صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ کے لیے تجاویز پیش، سپر ٹیکس کے خاتمے اور زیرو ریٹنگ بحال کرنے کا مطالبہ
جسٹس ہلالی کے ریمارکس
جسٹس مسرت ہلالی نے سی ٹی ڈی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پارا چنار حملہ ہوا وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، آپ اپنا دشمن پہچانیں، صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔
سماعت کا اختتام
بعد ازاں عدالت نے ملزم کو وکیل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔








