آزاد کشمیر کی 78 سالہ سیاسی تاریخ میں ایسے حالات کبھی بھی نہیں تھے، جو پچھلے ڈیڑھ سال میں خراب ہوئے، سردار تنویر الیاس
سابق وزیراعظم کا بیان
مظفرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنما سردار تنویر الیاس نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی 78 سالہ سیاسی تاریخ میں ایسے حالات کبھی بھی نہیں تھے، جو پچھلے ڈیڑھ سال میں آزادکشمیر میں حالات خراب ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لائیو سٹاک کارڈ کیلیے اب تک کتنی درخواستیں موصول ہو گئیں۔۔ ؟ جانیے
سیاسی عہدوں کی خالی جگہیں
آزادکشمیر میں اس وقت چھ سات آئینی عہدے ہیں جن پر کوئی سربراہ مقرر نہیں کئے گئے، اور اس وقت کوئی محکمہ بھی نہیں بچا ہے۔ آزادکشمیر کی پولیس نے کبھی ہڑتال نہیں کی لیکن اب پولیس بھی سڑکوں پر آئی ہے۔ جبکہ آزادکشمیر کے ڈاکٹر اور عام آدمی بھی سراپا احتجاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں تاریخی بلندیوں کے بعد مندی، انڈیکس میں 259 پوائنٹس کی کمی
فرنٹ لائن پروگرام میں گفتگو
ایک نیوز کے پروگرام فرنٹ لائن میں میزبان ثنا مرزا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں فارورڈ بلاک پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو ملا کر حکومت چل رہی تھی، لیکن دونوں پارٹیوں کے پاس نہ کوئی کام کی وزارتیں تھیں اور نہ ہی ان کے پاس خاص ذمہ داریاں اور اختیارات تھیں۔ اختیارات سارے فارورڈ بلاک اور چودھری انوارالحق کے پاس تھے، اور ان کے کاموں کی سزا پورے سیاسی نظام کو مل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر کی دہلیز پر شہری سے موٹر سائیکل چھین لی گئی، فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل
چودھری انوارالحق کا دعویٰ
سابق وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ چودھری انوارالحق دعویٰ کر رہے تھے کہ اسمبلی میں قائد ایوان لانے کے لیے آپ کو اسمبلی کے اندر 27 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس پارٹی کے پاس 27 اراکین ہوں وہ اپنا قائد ایوان منتخب کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چارسدہ: جوڈیشل کمپلکس کے باہر 2 گروپوں کے درمیان فائرنگ، 3 افراد جاں بحق، 4 زخمی
پیپلزپارٹی کی اکثریت
پی پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ چودھری انوارالحق اس پوزیشن میں نہیں رہے کہ وہ کوئی مذاکرات کرسکیں، کیونکہ پیپلزپارٹی قائد ایوان کیلئے سادہ اکثریت ثابت کرچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کو بڑا دھمکا، 15 جولائی سے نئی پالیسی
وزیراعظم کی حمایت کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ سے کہا تھا کہ ہم آپ کو ووٹ دے سکتے ہیں لیکن وزارتیں نہیں لیں گے۔ پیپلزپارٹی کو اس وقت ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
سیاسی نظام کی بحالی کی ضرورت
سردار تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر انتشار کی طرف جا رہا ہے اور وہاں پر سیاسی نظام کو بحال کرنا بہت ضروری ہے۔ ہماری قیادت نے کل آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا ہے، جہاں ممکنہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک کب پیش کرنی ہے، اس بارے میں بتایا جائے گا۔








