کراچی دھماکا: کرائم سین پر صورتحال غیر واضح، قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے: ڈی آئی جی ایسٹ

کراچی میں دھماکہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں ایئرپورٹ کے قریب ایک دھماکہ ہوا، جس کے بعد ڈی آئی جی ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ کرائم سین پر کچھ سمجھ نہیں آرہا، اور کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم ٹاؤن موڑپر پتنگ کی ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار زخمی، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اظہار برہمی ، رپورٹ طلب کر لی
ابتدائی تحقیقات
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک آئل ٹینکر میں آگ لگی اور پھر اس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا جس سے کئی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین ٹیچرز سے نازیبا حرکات اور ویڈیوز بنانے کا الزام، سکول پرنسپل گرفتار کرلیا گیا
تحقیقاتی عمل
اظفر مہیسر نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے میں دہشتگردی اور تخریب کاری کا عنصر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم منظور ہونے پر ممکنہ طور پر نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟ بڑا دعویٰ
حتمی معلومات
ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق فارنزک رپورٹ آنے تک حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے 26ویں ترمیم کے فیصلے تک فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت موخر کرنے کی درخواست خارج کردی
جانی نقصان
یاد رہے کہ کراچی ایئرپورٹ سگنل کے قریب زوردار دھماکے میں 2 افراد جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہوئے، زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون، پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی چین میں 20 نئے تجارتی عہدوں کی منظوری
وزیر داخلہ کا بیان
جائے واقعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں غیرملکی شہری سوار تھے۔ دھماکا غیرملکیوں کے گزرنے کے بعد ہوا، اور اسے آئل ٹینکر دھماکا نہیں کہا جا سکتا۔
دھماکے کی نوعیت
انہوں نے بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ دھماکا آئی ای ڈی ہے۔ سی سی ٹی وی اور دیگر ذرائع سے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ پر تمام تنصیبات محفوظ ہیں۔