بزنس کمیونٹی سمندری تجارت کی طرف آئے، پاکستان کو ایک اور شپ یارڈ کی ضرورت ہے: وائس ایڈمرل فیصل عباسی
پائیمک ایکسپو کی اہمیت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی بلیو اکنامی کے لیے پائیمک ایکسپو اہمیت کی حامل ہوگی، پائیمک کانفرنس کے مثبت اثرات نمایاں ہوں گے۔ بزنس کمیونٹی سمندری تجارت کی طرف آئے، پاکستان کو ایک اور شپ یارڈ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تجاوزات کے خلاف پیرا کا آپریشن، پھل فروشوں سے بھتا وصول کرنے والوں کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیا
پائیمک کانفرنس کی تفصیلات
ایکسپو سینٹر کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیمک کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن 3 سے 6 نومبر تک ہوگا، کانفرنس میں 44 ممالک شرکت کریں گے، غیرملکی مندوبین کی بڑی تعداد پائیمک کانفرنس میں شریک ہو گی۔ اس میگا ایکسپو کے انعقاد میں سندھ حکومت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مقامی سرمایہ کاروں کو بھی فوائد حاصل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی بجٹ میں عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری،کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہونیکا امکان
سمندری آلودگی کا چیلنج
’’جنگ‘‘ کے مطابق وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے کہا کہ پائیمک میں انٹرنیشنل کانفرنس بھی ہوگی، مختلف موضوعات پر لیکچرز ہوں گے۔ سمندری آلودگی ایک چیلنج ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت اس مسئلے پر کام کر رہی ہے۔ بزنس کمیونٹی کی سمندری تجارت کی طرف آمد ضروری ہے، کیونکہ سمندر میں دولت کی کوئی کمی نہیں، مگر سمندری آلودگی پر ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے سابق وزیر محمد صدیق کانجو اور عبدالرحمن کانجو کی خدمات، جدوجہد اور شخصیت پر اوورسیز پاکستانیوں کا خراج تحسین
نئے شپ یارڈ کی ضرورت
وائس ایڈمرل نے کہا کہ دنیا کے تمام ریجنز کے ممالک کا نمائش میں شریک ہونا پائیمک کی کامیابی ہے۔ پاکستان کو ایک اور شپ یارڈ کی ضرورت ہے، اور ہم کراچی شپ یارڈ کے بعد کوئی اور شپ یارڈ نہیں بنا سکے ہیں۔ نئے شپ یارڈ کے منصوبے پر وفاقی وزیر بحری امور کام کر رہے ہیں اور سندھ حکومت سے ٹاسک فورس تیار کی گئی ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے جسے حل کرنا ہے۔
آئل اینڈ گیس کے ذخائر
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نیوی نے چین کے ساتھ آئل اینڈ گیس کے سروے کے لیے معاہدہ کیا تھا۔ تین سروے کیے گئے، جس میں پتہ چلا کہ مکران اور دیگر مقامات پر ذخائر پائے گئے ہیں۔ کل بولی کا آخری دن تھا، دنیا کے بڑے ممالک بولی دے رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس تقریباً 16 بلین ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں۔








