مولانا فضل الرحمان کی ایک بار پھر پنجاب حکومت کی جانب سے آئمہ کرام کو وظیفہ دینے کے فیصلے پر سخت تنقید
مولانا فضل الرحمان کی تنقید
ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر پنجاب حکومت کی جانب سے آئمہ کرام کو وظیفہ دینے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتون کا انوکھا کارنامہ، جسم کا اہم حصہ اتنا زیادہ کھول لیا کہ نیا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا
اسلام کے نام پر قیام پاکستان
ملتان میں علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اس کے قیام کے لیے برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیلی ویژن جمہوری شرکت کی حمایت کرنے اور حکومتی جواب دہی میں مدد کرتا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب
دینی مدارس کا کردار
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دینی مدارس کے کردار کو منظم انداز میں کمزور کیا جا رہا ہے۔ "ہمیں کہا جاتا ہے کہ قومی دھارے میں آئیں، اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہم علما کو 25 ہزار روپے دینا چاہتے ہیں، ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ آخر تم کس مد میں یہ رقم دے کر علما کے ضمیر خریدنا چاہتے ہو؟"
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور چیئرمین پی سی بی کی پاکستانی جیولین ٹیم کو تمغے جیتنے پر مبارکباد
سعودی عرب اور UAE کی مثالیں
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ "یہ مثالیں دیتے ہیں کہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں ایسا ہوتا ہے، تو پھر وہاں کا پورا نظام یہاں نافذ کرو۔ ہمیں فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں — بھاڑ میں گیا فورتھ شیڈول۔"
یہ بھی پڑھیں: لینڈ مارک ڈویلپرز نے 13 کامیاب پراجیکٹس اور 500 یونٹس کی ڈلیوری کے بعد The Oasis Grand 14 لانچ کر دیا، 25 دسمبر سے پہلے پری لانچ آفر
مدارس کی رجسٹریشن
ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی مکمل ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا اعلان
واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کی تقریباً 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا。








