پیپلز پارٹی نے کراچی کی نوکریوں پر قبضہ کر رکھا ہے، شہر کو لوٹ مار سے آزاد کرائیں گے: حافظ نعیم
کراچی میں سڑکوں کی حالت اور ای چالان
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ شہر میں سڑکیں بنی ہوئی نہیں ہیں لیکن شہریوں کو ہزاروں کے ای چالان آ رہے ہیں، ہم لوٹ مار اور قبضے کے نظام سے شہر کو آزادی دلائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالفطر پر خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر رش، لاکھوں سیاحوں کی آمد
ترقیاتی کاموں کا آغاز
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے منتخب اراکین اپنی بساط سے زیادہ کام کر رہے ہیں، اور کریں گے، ایک مرتبہ پھر 9 ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو دوسرا انجیکشن لگنے کے باوجود طبیعت گزشتہ ہفتے جیسی ہی ہے، کوئی نمایاں بہتری سامنے نہیں آئی، مریم ریاض وٹو
شہری مسائل اور ناکافی بنیادی ڈھانچہ
ان کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کے کام بھی ان کو دیکھنے پڑتے ہیں، ایس تھری منصوبہ کہاں گیا؟ شہر میں ٹرانسپورٹ نہیں ہے، سڑکیں بنی نہیں ہیں اور ای چالان ہزاروں میں آرہا ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے نہیں بن رہا ہے، ریڈ لائن نے یونیورسٹی روڈ کا برا حال کر رکھا ہے، اورنج لائن میں بھی پورے اورنگی کو کور نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملوں میں 3افراد زخمی، ڈرون حملے میں صاف پانی کے پلانٹ کو نقصان پہنچا: بحرین کا الزام
قبضہ کی سیاست اور مہنگے ای چالان
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں قبضے کی سیاست جاری ہے۔ گاؤں اور دیہات پر قبضے کے بعد شہروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے، لاہور میں جو چالان 200 روپے کا ہے، سندھ میں 5 ہزار روپے کا ہے، یہ کیا ڈرامہ ہے؟ سڑکیں ٹھیک نہیں ہیں اور مہنگے ای چالان کیے جا رہے ہیں۔ ہم لوٹ مار اور قبضے کے نظام سے کراچی شہر کو آزادی دلائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نادیہ خان کا اداکاری سے کوئی تعلق نہیں، وہ نہ اردو جانتی ہیں نہ ہی انگریزی: خلیل الرحمٰن قمر
بلدیاتی انتخابات اور اختیارات کی کمی
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی سیٹوں میں من پسند حلقہ بندیوں کی وجہ سے اضافہ ہوا۔ پیپلز پارٹی نے دھاندلی کرکے اپنا میئر بنایا۔ بلدیاتی انتخابات جیت کر لوگ کہتے تھے کہ اختیارات ملیں گے، نہیں تو کام کیسے کریں گے؟ ابھی تک پیپلز پارٹی نے ٹاؤن کو اختیارات منتقل نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
سندھ حکومت کے کام اور شہر کی حالت
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کچرا اٹھانے کے اختیارات بھی سندھ حکومت کے پاس ہیں، گھر سے جو کچرا اٹھایا جاتا ہے، اس کے پیسے لوگ خود ادا کرتے ہیں۔ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے پاس گھر سے کچرا اٹھا کر لینڈ فیلڈ سائٹ تک پہنچانے کا پورا میکنزم موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
دباؤ اور ترقیاتی کام
انہوں نے کہا کہ ٹاؤنز کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے، سٹی وارڈنز کو استعمال کرکے کام میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے ٹاؤن میں اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے تحت تعمیر و ترقی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے. نارتھ ناظم آباد میں کچھ بلاک کے لوگ شکایت کر رہے ہیں، ٹاؤن چیئرمین وہاں پر بھی کام کریں، شہر کی اونر شپ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: راشد لطیف خان یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کانفرنس 2025 کا انعقاد، ممتاز اداروں کی شرکت
پیپلز پارٹی کی ناکامیاں
ان کا کہنا تھا کہ 12 سے 15 سال سے کراچی کے بڑے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ 15 سالوں میں پیپلز پارٹی نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سیوریج کا نظام بھی ٹاؤن کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قیمت 14کروڑ روپے، سٹیو سمتھ پی ایس ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین کھلاڑی بن گئے
جماعت اسلامی کی مستقبل کی حکمت عملی
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کی نوکریوں پر قبضہ کر لیا ہے، کراچی کے نوجوانوں کو روزگار سے دور کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے 20 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ، نام سامنے آگئے
تعلیم کا حق
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تعلیم خیرات نہیں، یہ ہمارے بچوں کا حق ہے۔ جنریشن زی دنیا میں انقلاب لا رہی ہے، اسی جنریشن زی کو مایوس کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مایوس ہوگئی تو غلط راہ پر لگے گی، جماعت اسلامی بنو قابل پروگرام کے ذریعے جنریشن زی کو باصلاحیت بنا رہی ہے۔
حکومت سے مطالبات
انہوں نے کہا کہ حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں کام کرنے دو، قبضہ کی سیاست اور کرپشن بند کرو۔ جماعت اسلامی تیاری کر رہی ہے۔ اگر لوگ ہمارے ساتھ نکلے تو آپ کو جانا ہو گا۔








