عروب جتوئی سے رشوت لینے کا مقدمہ، این سی سی آئی اے کے گرفتار افسران کا مزید 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور
عدالت کا مزید ریمانڈ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقامی عدالت نے معروف یوٹیوبر سعدالرحمان عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی سے رشوت لینے کے مقدمے میں این سی سی آئی اے کے گرفتار افسران کا مزید 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ، مجموعی سالانہ شرح 4.57 فیصد ہوگئی
پیشی اور جسمانی ریمانڈ کی درخواست
ڈان نیوز کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی، ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر 6 ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیرس کی سڑکوں پرپیدل اخبار بیچنے والا پاکستانی فرانس کے اعلیٰ شہری اعزاز کیلئے نامزد
ایف آئی اے کا موقف
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے ملزمان کا مزید تین دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور کہا کہ یہ وائٹ کالر کرائم ہے، متاثرین کون کون ہیں معلومات حاصل کرنی ہے، ملزمان سے چار کروڑ اٹھ58 لاکھ ریکور ہو چکے ہیں، ملزمان سے مزید تفتیش کرنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چلاس: پولیس ٹیم پر فائرنگ، 3 اہلکار شہید، ڈی ایس پی سمیت کئی اہلکار زخمی
ملزمان کے وکیل کا دفاع
دوران سماعت ملزمان کے وکیل میاں علی اشفاق کی جانب سے ریمانڈ کی مخالفت کی گئی، انہوں نے کہا کہ مدعی نے نوے لاکھ کا الزام لگایا، ایف آئی اے نے چار کروڑ اٹھ58 لاکھ کی ریکوری دکھا دی۔ یہ ایک عجیب کیس ہے کہ جس میں مدعی کوئی نہیں، ایف آئی اے انھیں تلاش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے یکم جنوری سے غیرملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے بڑی شرط عائد کردی
الزامات اور شواہد کی کمی
وکیل ملزمان نے کہا کہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ کال سینٹرز سے رشوت لیتے ہیں، جبکہ کسی کال سینٹر کا نام اور بیان تک موجود نہیں۔ یہ ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا آئیڈیل کیس ہے۔ ایف آئی اے کے پاس چار مواقع تھے کہ وہ تفتیش کر سکتے تھے مگر نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، کبھی چیخیں نہیں ماری تھیں، یہ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں مار رہے ہیں: احسن اقبال
پیش کردہ شہادتوں کی قانونی حیثیت
میاں علی اشفاق نے کہا کہ زبانی شہادتوں کی مالی جرائم میں کوئی گنجائش نہیں، رشوت کے الزام میں لین دین کے جرائم میں تمام نوٹوں کے نمبر کیا تھے، اس تفصیل کی موجودگی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تمنا بھاٹیا کس کے لیے بہترین لائف پارٹنر بننے کی تیاری کر رہی ہیں؟ اداکارہ نے بتادیا
نامزدگیاں اور تفتیشی کمزوریاں
انہوں نے الزام لگایا کہ کہا گیا کہ شہباز نامی شخص شعیب ریاض کا فرنٹ مین ہے، جبکہ عروب جتوئی نے کہا کہ وہ کبھی شعیب ریاض سے ملتی یا کوئی لین دین نہیں کرتی۔
عدالتی کارروائی کا اختتام
این سی سی آئی اے افسران پر رشوت و اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس پر عدالتی کارروائی مکمل ہونے پر عدالت نے ایف آئی اے کی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
بعد ازاں، عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سمیت دیگر تمام ملزموں کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا اور انہیں تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا.








