عروب جتوئی سے رشوت لینے کا مقدمہ، این سی سی آئی اے کے گرفتار افسران کا مزید 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور
عدالت کا مزید ریمانڈ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقامی عدالت نے معروف یوٹیوبر سعدالرحمان عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی سے رشوت لینے کے مقدمے میں این سی سی آئی اے کے گرفتار افسران کا مزید 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان: دہشت گردوں کا مسافر بسوں اور کسٹم آفس پر حملہ، ایک اہلکار شہید
پیشی اور جسمانی ریمانڈ کی درخواست
ڈان نیوز کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی، ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر 6 ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بشارالاسد کون ، اقتدار کیسے ملا؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں
ایف آئی اے کا موقف
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے ملزمان کا مزید تین دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور کہا کہ یہ وائٹ کالر کرائم ہے، متاثرین کون کون ہیں معلومات حاصل کرنی ہے، ملزمان سے چار کروڑ اٹھ58 لاکھ ریکور ہو چکے ہیں، ملزمان سے مزید تفتیش کرنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ، پارلیمنٹ اور ڈی چوک جانے والے تمام راستے بند، اراکین اسمبلی کی پولیس سے تکرار
ملزمان کے وکیل کا دفاع
دوران سماعت ملزمان کے وکیل میاں علی اشفاق کی جانب سے ریمانڈ کی مخالفت کی گئی، انہوں نے کہا کہ مدعی نے نوے لاکھ کا الزام لگایا، ایف آئی اے نے چار کروڑ اٹھ58 لاکھ کی ریکوری دکھا دی۔ یہ ایک عجیب کیس ہے کہ جس میں مدعی کوئی نہیں، ایف آئی اے انھیں تلاش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست سے گریز کیا جائے، طارق فضل چوہدری
الزامات اور شواہد کی کمی
وکیل ملزمان نے کہا کہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ کال سینٹرز سے رشوت لیتے ہیں، جبکہ کسی کال سینٹر کا نام اور بیان تک موجود نہیں۔ یہ ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا آئیڈیل کیس ہے۔ ایف آئی اے کے پاس چار مواقع تھے کہ وہ تفتیش کر سکتے تھے مگر نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: فہرست کے علاوہ کوئی فرد عمران خان سے ملاقات نہیں کریگا، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا فیصلہ
پیش کردہ شہادتوں کی قانونی حیثیت
میاں علی اشفاق نے کہا کہ زبانی شہادتوں کی مالی جرائم میں کوئی گنجائش نہیں، رشوت کے الزام میں لین دین کے جرائم میں تمام نوٹوں کے نمبر کیا تھے، اس تفصیل کی موجودگی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 24 گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقے میں موسم کیسا رہے گا؟ تازہ پیشگوئی
نامزدگیاں اور تفتیشی کمزوریاں
انہوں نے الزام لگایا کہ کہا گیا کہ شہباز نامی شخص شعیب ریاض کا فرنٹ مین ہے، جبکہ عروب جتوئی نے کہا کہ وہ کبھی شعیب ریاض سے ملتی یا کوئی لین دین نہیں کرتی۔
عدالتی کارروائی کا اختتام
این سی سی آئی اے افسران پر رشوت و اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس پر عدالتی کارروائی مکمل ہونے پر عدالت نے ایف آئی اے کی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
بعد ازاں، عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سمیت دیگر تمام ملزموں کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا اور انہیں تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا.








