بس مہربانی کر دیو
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 339
یہ بھی پڑھیں: سرکاری پاور پلانٹس میں رقم کی ادائیگی ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں ہو جائیگی: سی پی پی اے
مسلم لیگ(ق) کی امیدیں
مسلم لیگ(ق) کو امید تھی کہ 2007ء کے الیکشن میں وہی جیتے گی اور مخصوص نششتوں پر بھی تقریباً تیس (30) خواتین منتخب کروا پائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان آ گیا
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس شروع ہوا تو کچھ دیر بعد صاحب نے مجھے بھی اجلاس میں بلا لیا اور کہا؛ "سی ایم جس امیدوار کے حوالے سے جو کومنٹس دیں آپ نوٹ کرتے جائیں۔" میٹنگ روم میں آنے پر سی ایم نے صاحب کی طرف دیکھا۔ انہوں نے جواب دیا؛ "سر! میرا سٹاف افسر ہے۔" وہ مسکرا دئیے اور میں صاحب کے پیچھے والی نشست پر بیٹھ کر اپنا کام کرنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی زیر صدارت اجلاس، جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور اور صحافیوں کے مسائل سے متعلق اہم فیصلے
خاتون امیدوار کی پیشکش
کئی گھنٹے بعد اجلاس ختم ہوا تو میں وہ کاغذ صاحب کے حوالے کرکے باہر آ نے لگا تو بولے؛ "آپ کہیں جا رہے ہیں۔" میں نے کہا؛ "نہیں سر۔" کہنے لگے؛ "ان کاغذوں کو پاس ہی رکھیں۔" میں نے فائل گاڑی میں رکھ کر مسلم لیگ ہاؤس کے اسسٹنٹ شکیل سے بات کرنے لگا۔ اتنے میں فیصل آباد کی رہنے والی ایک خاتون (نام ذھن سے نکل گیا ہے) مخصوص نشست پر امیدوار تھی اور فہرست میں اس کا نام پچاسویں نمبر کے قریب تھا۔ وہ میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں؛ "شہزاد صاحب! اگر آپ میرا نام پہلے 30 میں شامل کر دیں تو میں آپ کو 10 لاکھ روپے دے سکتی ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: سابق قومی ٹیسٹ کرکٹر و امپائر نذیر جونیئر انتقال کر گئے
اخلاقی اصولوں کا فیصلہ
میں نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا تو کہنے لگیں؛ "توسی چاہو تے سب ہو سکدا اے۔" میں نے کہا؛ "نہیں بی بی، آپ کو غلط فہمی ہے۔" خیر انہوں نے رقم 12 لاکھ کرتے کہا؛ "بس مہربانی کر دیو۔" چند سیکنڈ کے لیے میں ڈولا لیکن میرا انکار ہی رہا۔
یہ بھی پڑھیں: بیمار دلہن سے ہسپتال میں شادی، ویڈیو وائرل ہوگئی
صاحب کا ردعمل
صاحب کہیں اوپر سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ آئے تو کہنے لگے؛ "کیا راز و نیاز ہو رہا تھا شہزاد صاحب۔" میں نے انہیں ساری بات بتا دی۔ کہنے لگے؛ "بادشاہ آدمی ہیں آپ۔ فہرست آپ کے پاس تھی، اس خاتون کا نام اوپر کر دیتے اور پیسے لے لیتے۔" میں نے کہا؛ "سر! چند سیکنڈ کے لئے یہ خیال میرے دل میں بھی آیا تھا لیکن پھر سوچا کہ کسی بھری میٹنگ میں اگر اس عورت نے یہ کہہ دیا کہ "میں نے راجہ بشارت کو 12 لاکھ روپے دئیے تھے اور میرا نام اس نمبر پر کرکے یہ فہرست ان کے سٹاف افسر نے مجھے تھمائی تھی تو سر بڑی بدنامی ہوتی اور میرا عمر بھر کے لئے اعتبار جاتا رہتا۔ مجھے یہ سودا منظور نہ تھا۔" وہ مسکراتے بولے؛ "خوش رہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں شہری کے اندھے قتل کا ڈراپ سین، ایک خاتون سمیت دو ملزم گرفتار لیکن وجہ کیا بنی؟ شرمناک تفصیلات
صاحب کی اصول پسندی
ہم سرکاری دورے پر پنڈی سے لاہور آتے تو واپسی پر موٹر میں پٹرول صاحب اپنی جیب سے ڈلواتے تھے۔ چند دورے ہو گئے تو مجھے ڈرائیور اورنگ زیب نے کہا؛ "سر! صاحب سے پوچھ لیں کہ پیٹرول جو جیب سے ڈلواتے ہیں اس کی "باز ادائیگی" (reimbursement) کروانی ہے؟" قانون ایسی باز ادائیگی کی اجازت دیتا تھا اور میرے علم میں کوئی اور مثال نہیں کہ کسی بھی سرکاری افسر نے اپنی جیب سے کیا گیا سرکاری خرچہ بعد میں وصول نہ کیا ہو۔ میں نے صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے؛ "شہزاد صاحب! بالکل نہیں۔ سیکرٹری کیا کہے گا کہ چند ہزار بھی وصول کر لئے۔ 5 سال انہوں نے ایک پائی بھی اس مد سے نہیں لی۔"
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا انڈر 15 سے انڈر 19 تک کے بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کا فیصلہ
وزیر کا مشورہ
دوسری طرف ایسے وزیر اور سرکاری افسر بھی تھے جو ٹال پر خرچ کی گئی سو ڈیڑھ سو کی رقم بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک بار سی ایم صاحب نے پوچھا؛ "راجہ صاحب! آپ کے پاس کون سی سرکاری گاڑی ہے۔" انہوں نے جواب دیا؛ "سر! ہونڈا۔" کہنے لگے؛ "تسی لینڈ کروزر لوو۔" (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








