27 ویں ترمیم کیلئے درکار ووٹ؛ سینیٹ میں پارٹی پوزیشن سامنے آ گئی
ایوان بالا میں حزب اختلاف اور حکومت کی صورت حال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مجوزہ 27 ویں ترمیم کے لیے درکار ووٹوں کے تناظر میں ایوان بالا میں پارٹی پوزیشن سامنے آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا طوفانی بارشوں کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
حکومتی بینچز کی کمپوزیشن
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے اس وقت سینیٹ سے 64 ووٹ درکار ہوں گے۔ حکومتی بینچز پر سینیٹ میں سب سے زیادہ سیٹیں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں جن کی تعداد 26 ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کے پاس ایوان بالا میں 20 نشستیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے آپریشنل پاور پلانٹس کی کارکردگی رپورٹ 25-2024 جاری کر دی
حکومتی اتحادیوں کی نشستیں
سینیٹ میں حکومتی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کی 4 نشستیں اور ایم کیو ایم کے 3 ارکان ہیں۔ اسی طرح نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ق کی ایک ایک سیٹ ہے۔ حکومتی بینچز پر بیٹھنے والے آزاد سینیٹرز میں سینیٹر عبدالکریم، سینیٹر عبدالقادر، محسن نقوی، انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم اور سینیٹر فیصل واوڈا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صحرا کی سفید پوش لوگ دل کے امیر اور میزبانی کے بادشاہ ہیں، مہمان کے لیے بچھ ہی جاتے ہیں، صحرا کی ’گندی‘ آج بھی بطور نشانی میرے پاس محفوظ ہے۔
اپوزیشن کی طاقت
دوسری جانب اپوزیشن بینچز پر پی ٹی آئی کے سینیٹرز سب سے زیادہ ہیں۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی کی 14 نشستیں، اے این پی کی 3 نشستیں ہیں۔ ایک آزاد سینیٹر نسیمہ احسان بھی اپوزیشن بینچوں پر موجود ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 6 آزاد سینیٹرز بھی ایوان بالا میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، پیسوں سے میرے بچوں کو ماں تو نہیں مل سکتی، بھاٹی گیٹ واقعہ میں ہلاک خاتون کے شوہر کا بیان
ترتیب و حلف
پی ٹی آئی کے ایک نو منتخب سینیٹر جلد حلف اٹھا لیں گے، تاہم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایک آزاد رکن مراد سعید نے ابھی حلف اٹھانا ہے۔
دیگر اپوزیشن ارکان
اپوزیشن بینچز پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے 7 سینیٹرز ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن بینچز پر مجلس وحدت المسلمین کا ایک اور سنی اتحاد کونسل کا ایک رکن موجود ہے۔








