موبائل فونز سے پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جائے، علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو خط لکھ دیا

سید علی قاسم گیلانی کا مطالبہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کے رکن سید علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فونز پر عائد کئے گئے غیر معمولی بلند ٹیکسوں کا فوری جائزہ لے۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیاکپ انڈر 19 میں شاندار فتح، سرفراز کے تجربے کا نتیجہ ہے، بابر اعظم

ڈیجیٹل سہولتوں کی رسائی میں رکاوٹ

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی میں رکاوٹ بن رہا ہے اور ملک کی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملوں کے بعد 154 اسرائیلی ہسپتال منتقل

سمارٹ فونز کی اہمیت

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق کمیٹی کے ارکان کو ارسال کیے گئے ایک خط میں گیلانی نے کہا کہ سمارٹ فون اب تعلیم، کاروبار اور سرکاری و مالیاتی خدمات تک رسائی کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مرد آہن عاصم منیر کا دورہ امریکا، بھارت سیخ پا

ٹیکسوں کی بلند شرحیں

ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے درآمدی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کی بلند شرحیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 500 امریکی ڈالر سے زائد مالیت والے موبائل فونز پر اب 25 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ فونز پر مزید ٹیکس بھی عائد کیے جاتے ہیں، جن میں ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے تحت وصول کی جانے والی فیسیں بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ آج رات بھی جاری رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی

کم آمدنی والے افراد کی مشکلات

گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ تمام اخراجات مجموعی طور پر صارفین، خاص طور پر کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب موبائل فونز کوئی عیش و عشرت کی چیز نہیں رہے بلکہ معاشی اور سماجی شمولیت کے بنیادی ذرائع ہیں۔ گیلانی کے مطابق ٹیکسوں کا یہ بوجھ ڈیجیٹل شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، کاروبار کے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے اور ملک کے بڑھتے ہوئے آن لائن سروس سیکٹر کی صلاحیت کو محدود کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نظرثانی صرف واضح قانونی غلطی کی صورت میں ہی ممکن ہے، جسٹس منصور علی شاہ

پالیسیوں کے اثرات

ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسیاں اختراعات کی رفتار کم کر سکتی ہیں اور پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مسابقت کو کمزور کر سکتی ہیں۔

حکومت سے مطالبہ

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک متوازن پالیسی اپنائی جائے جو ایک طرف قومی ریونیو کو یقینی بنائے اور دوسری جانب اسمارٹ فونز کی سستی فراہمی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو ممکن بنائے۔ گیلانی نے کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ اپنے مالیاتی اصلاحات کے دائرہ کار کے تحت اس مسئلے کا فوری جائزہ لے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...