اسلام آباد ہائیکورٹ میں انجینئر محمد علی مرزا کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست منظور
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف زیر سماعت کیس میں فریق بنانے کی درخواست منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کا “پانی پر بیانیہ” بھی “شرم سے پانی پانی” ہو گیا، دریائے جہلم میں اضافی پانی چھوڑنے کی حقیقت سامنے آ گئی
عدالت کی سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے انجینئر محمد علی مرزا کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔ اس درخواست میں ان پر لگے الزامات کے خلاف ڈاکٹر اسلم خاکی کی درخواست میں فریق بننے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شیلا باغ: ایک خوبصورت اور رومانوی اسٹیشن جسے قومی ورثہ قرار دیا گیا
وکیل کا بیان
درخواست گزار کی جانب سے حافظ محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے اور بتایا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض تھا جو دور کر دیا گیا ہے۔ ہم صرف مرکزی کیس میں فریق بننا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا
عدالت کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ آپ نے سادہ درخواست دے دی ہے، اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں لگایا۔ وکیل نے جواب دیا کہ مرکزی کیس کے ساتھ دستاویزات منسلک ہیں، یہ متفرق درخواست ہے۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے انجینئر محمد علی مرزا کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست منظور کر لی۔ مرکزی کیس کی سماعت 12 نومبر کو ہو گی۔








