آئینی ترمیم یا کوئی اور معاملہ، مولانا فضل الرحمان کبھی گیلی پٹی پر پاؤں نہیں رکھتے، اپنی حیثیت اور اہمیت قائم رکھتے ہیں، سلمان غنی
مولانا فضل الرحمان کی اہمیت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے مولانا فضل الرحمان اپنی حیثیت اور اہمیت قائم رکھتے ہیں لیکن اس بار ان کی زیادہ ضرورت نہیں پڑی، کیونکہ قومی اسمبلی میں 2 تہائی اکثریت حکومت اور ان کے اتحادیوں کے پاس موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے عیدالفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کیلئے ہدایات جاری کر دیں
سینیٹ میں مشکلات
لیکن ابھی سینیٹ میں حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام تھنک ٹینک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمان کبھی گیلی پٹی پر پاؤں نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں: استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد نے افغان طالبان کے وفد کو حتمی موقف پیش کر دیا
سیاسی جھکاؤ میں تبدیلی
پہلے ان کا جھکاؤ مسلم لیگ ن کی طرف سے تھا، جو اب تبدیل ہو کر پیپلز پارٹی کی طرف ہو گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں مولانا فضل الرحمان خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم تحریک میں بنیادی کردار مولانا فضل الرحمان کا تھا اور اس وجہ سے صدارت کے عہدے کے امیدوار تھے، جس کا اظہار انہوں نے نواز شریف سے بھی کیا تھا، لیکن بعد میں جو سیٹ اپ بنا اس میں مولانا فضل الرحمان کو ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکا تھا۔
سینیٹ کی ووٹنگ کی صورتحال
سلمان غنی نے مزید کہا حکومت کے پاس سینیٹ میں 61 ووٹ ہیں اور ترمیم کی منظوری کے لیے 64 ووٹ درکار ہیں، مولانا فضل الرحمان پاس سینیٹ میں 4 مضبوط ووٹ ہیں۔ ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت نے 4 ووٹوں کا بندوبست تو کرنا ہے۔








