روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی
روس کی ثالثی کی پیشکش
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: علی خامنہ ای اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی جانشینی کے خلاف تھے، امریکی انٹیلی جنس کی ٹرمپ کو بھیجی گئی رپورٹ میں دعویٰ
خطے میں استحکام کی ضرورت
ڈیلی ٹائمز کے مطابق، روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی نہ صرف روس بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا، "پاکستان اور افغانستان ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، سرحدی کشیدگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، مذاکرات ہی مسئلے کا پائیدار حل ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں اہم شراکت دار ہیں، ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: مزید 4 افراد کے سر قلم، سعودی عرب میں رواں سال سزائے موت پانے والوں کی تعداد 303 ہوگئی
مذاکرات کی تاریخ
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی مگر استنبول میں مذاکرات کے دو ادوار میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر ڈکی بھائی نے یوٹیوب پر نیا سنگ میل عبور کرلیا
ترکی کی جانب سے تعاون
ترک صدر نے آذربائیجان میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاک افغان کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان بھیجیں گے۔
ایران کی تشویش
دوسری طرف، ایران کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستانی ہم منصب سے کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔








